حیدرآباد :۔ کوویڈ وبا کے پیش نظر ریاستی حکومت نے طبی سہولتوں میں اضافہ کرنے کے سلسلہ میںکئی اقدامات کئے اور شہر کے قدیم دواخانوں کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ، لیکن نظامیہ جنرل ہاسپٹل (چارمینار دواخانہ ) کو ابھی تک کوویڈ کیر سنٹر میں تبدیل نہیں کیا گیا ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس دواخانہ میں آکسیجن فسیلیٹی نہیں ہے ۔ چونکہ اس وبا کی دوسری لہر کے پھیلاؤ کے ساتھ حکومت نے کئی اقدامات شروع کئے ہیں جن میں فنکشن ہالس ، ایریا کمیونٹی ہالس میں عارضی کوویڈ کیر سنٹرس قائم کرنا شامل ہے اور آکسیجن سہولت اور وینٹلیٹرس کے ساتھ بستروں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے لیکن چارمینار دواخانہ میں صرف غیر علامتی مریضوں کا ہی علاج کیا جارہا ہے اور اسے ابھی تک کوویڈ کیر سنٹر میں تبدیل نہیں کیا گیا ۔ ابتر ہوتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور بستروں کی عدم دستیابی سے متعلق کئی شکایتوں پر ریاستی حکومت نے شہر میں کوویڈ مریضوں کے علاج و معالجہ کے لیے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور اس میں اضافہ کیا ہے اور موجود گورنمنٹ ہاسپٹلس کی تلاش شروع کردی ہے جنہیں پوری طرح کوویڈ کیر ہاسپٹلس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے علاوہ چارمینار دواخانہ پرانے شہر میں ایک بڑا سرکاری دواخانہ ہے جس میں بڑی تعداد میں بیڈس ہیں اور اس دواخانہ میں شریک کوویڈ مریضوں کو اس دواخانہ میں آکسیجن اور وینٹلیٹرس نہ ہونے کی وجہ کوویڈ کا علاج کرنے والے دواخانوں کو بھیج دیا گیا ۔ چارمینار دواخانہ کے ایک ڈاکٹر کے مطابق جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی ہے ، گذشتہ مارچ میں اس دواخانہ کو کوویڈ لیول I ٹریٹمنٹ سنٹر میں تبدیل کیا گیا اور سینئیر ایلوپیتھی ڈاکٹرس کو الاٹ کیا گیا جو مریضوں کا علاج کررہے تھے ۔ بعد میں اسے آئسولیشن سنٹر بنادیا گیا ۔ اب کوویڈ کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ شدید ہوگئی ہے ۔ مریض کی حالت کم وقت کے اندر ہی بہت نازک اور خراب ہوتی جارہی ہے اور انہیں آکسیجن اور وینٹلیٹرس کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ اس ڈاکٹر نے کہا کہ ’ اب اس دواخانہ میں ٹسٹس کیے جارہے ہیں اور اگر کسی کی رپورٹ غیر علامتی حالت میں پازیٹیو ہو تو انہیں دواخانہ میں شریک کر کے علاج کیا جارہا ہے ۔ اگر مریض کی حالت نازک ہوگئی یا اسے آکسیجن کی ضرورت ہو تو اسے کوویڈ کا علاج کرنے والے دواخانہ کو بھیجا جاتا ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’ گذشتہ سال ، جب لیول I علاج تھا تو حکومت نے بنیادی سہولتیں فراہم کئے تھے اور 250 بیڈس تک فراہم کئے تھے ۔ لیکن اب اس دواخانہ میں کوئی آکسیجن یا وینٹلیٹرس بیڈس نہیں ہیں اور اس طرح کی شدید حالت میں مریضوں سے کوویڈ ہاسپٹل میں شریک ہونے کے لیے کہا گیا ‘ ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ’ حال میں پرانے شہر کے ساکن ایک مریض کو ہلکی علامات کے ساتھ پازیٹیو ٹسٹ کے بعد دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں سانس لینے میں مشکل ہوئی کیوں کہ ان کے آکسیجن سیچوریشن سطح میں تیزی سے کمی ہورہی تھی انہیں فوری طور پر کوویڈ ہاسپٹل کو لے جایا گیا ‘ ۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جو گذشتہ چند ہفتوں میں دیکھنے میں آئے ہیں ۔ جس میں مریضوں کو دوسرے دواخانوں کو بھیج دیا گیا کیوں کہ اس دواخانہ میں آکسیجن فسیلٹی دستیاب نہیں ہے ۔۔