کاروبار کرنے کے حق کو سلب کئے بغیر متبادل جگہ فراہم کی جائے ۔ تلنگانہ ہائیکورٹ
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی کہ تاریخی چارمینار کے اطراف غیر رجسٹرڈ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو متبادل جگہ فراہم کرکے انہیں منتقل کرنے کے اقدامات کریں۔ چیف جسٹس جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل بنچ نے جویلرس اور صرافہ اسوسیشن کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکام جاری کرتے ہوئے بلدیہ حیدرآباد کو چارمینار کے دامن میں کاروبار کرنے والے ٹھیلہ بنڈی رانوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ان کے حق تجارت کو سلب کئے بغیر انہیں کاروبار کے لئے جگہ مہیا کروائی جائے ۔ جویلرس اور صرافہ اسوسیشن کی درخواست میں کہا گیا تھا چارمینار کے اطراف ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ تاجرین کے سبب حقیقی مالکین جائیداد و تاجرین کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے وہ عدالت سے رجوع ہو کر ان ٹھیلہ بنڈی رانوں کے تخلیہ کی درخواست کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو چاہئے کہ ان تمام غیر رجسٹرڈٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ فٹ پاتھ تاجرین کا ریکارڈ تیار کریں جو جی ایچ ایم سی کے ریکارڈ میں نہیں ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت 13جون کو مقرر کرکے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے آئندہ سماعت سے قبل ٹھیلہ بنڈی رانوں کیلئے راحت کاری اور بازآبادکاری اقدامات کو مکمل کرنا چاہئے اور ان کے کاروبار کو متاثر کئے بغیر متبادل جگہ کی فراہمی کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے اطراف موٹر گاڑیوں کیلئے راستہ بند کرنے کے فوری بعد ٹھیلہ بنڈی رانوں ‘ فٹ پاتھ تاجرین اور صرافہ تاجرین میں اختلافات شروع ہوگئے تھے اور جویلرس نے بازار بند کرکے ٹھیلہ بنڈی رانوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس وقت بلدیہ سے رجسٹرڈ ٹھیلہ بنڈی رانوں اور تاجرین کو کاروبار کرنے کی اجازت فراہم کرنے کے علاوہ راستہ میں رکاوٹ پیدا کئے بغیر کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کہا گیا تھا ۔ اس کے بعد جویلرس نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ان چھوٹے تاجرین کی منتقلی کی درخواست داخل کی تھی۔