چار سال تک ملاقات کا وقت نہیں لیکن کابینہ میں شمولیت : ریونت ریڈی

   

مہیندر ریڈی کی کابینہ میں شمولیت مضحکہ خیز، کے سی آر کی تائید پر اسد اویسی پر تنقید
حیدرآباد ۔24۔ اگست (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ریمارک کیا کہ کل تک ایک دوسرے کے بال پکڑ کر جھگڑنے والے آج آپس میں عہدے تقسیم کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے مہیندر ریڈی کو کابینہ میں شامل کرنے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ چار برسوں تک مہیندر ریڈی کو ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا لیکن آج کے سی آر نے انہیں وزارت میں شامل کرلیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہ کہا کہ مہیندر ریڈی وزیر بن گئے لیکن تانڈور کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریونت ریڈی نے آج تانڈور میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کے دورہ کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تانڈور کے ساتھ ہر شعبہ میں ناانصافی کی گئی ہے اور یہ علاقہ آبپاشی کی سہولتوں سے محروم ہے۔ چیوڑلہ میں 26 اگست کو ایس سی گرجنا جلسہ عام کو کامیاب بنانے کیلئے ریونت ریڈی مختلف علاقوں کے قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کوڑنگل اسمبلی حلقہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کوڑنگل کو ترقی کیلئے اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اپنے وعدہ کو فراموش کردیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کی جانب سے کوڑنگل کو اختیار کرنے کے باوجود کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ میں نے رکن اسمبلی کی حیثیت سے جو کام انجام دیئے تھے ، آج وہی برقرار ہیں۔ کے سی آر نے کوڑنگل کو ضلع کا ہیڈکوارٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پسماندگی جوں کی توں برقرار ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ شکست کے خوف سے کے سی آر دو اسمبلی حلقہ جات گجویل اور کاما ریڈی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو دونوں اسمبلی حلقہ جات میں شکست ہوگی اور تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت کا صفایا ہوگا۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر خاندان نے حیدرآباد کے اطراف 10,000 ایکر اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تانڈور کانگریس کا مضبوط قلعہ ہے اور یہاں تک منتخب رکن اسمبلی نے کانگریس پارٹی کو دھوکہ دیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنوں کو ہراساں کرنے کیلئے پولیس کے ذریعہ مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ پولیس کی ہراسانی کو کانگریس پارٹی برداشت نہیں کرے گی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ان کے لئے کوڑنگل اور تانڈور دونوں یکساں طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ چیف منسٹر نے گجویل کیلئے پانی کا انتظام کیا لیکن دیگر علاقوں کو نظر انداز کردیا گیا ۔ مدیراج طبقہ کو ایک بھی اسمبلی ٹکٹ الاٹ نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے راجندر کی نشست پر ریڈی طبقہ کے مہیندر ریڈی کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستی کابینہ میں اعلیٰ طبقہ کی نمائندگی 9 ہے اور کے سی آر نے مزید ایک کا اضافہ کیا ہے ۔ تلنگانہ میں سماجی انصاف کیلئے کانگریس کا برسر اقتدار آنا ضروری ہے ۔ مجلس کے صدر اسد اویسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے اقلیتوں کیلئے کچھ نہیں کیا ، باوجود اس کے اسد اویسی ، کے سی آر کو کامیاب بنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ، نریندر مودی اور اسد اویسی تینوں ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر تمام انتخابی وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔