چار ماہ کی مہلت ، آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کا انتباہ

   

عہدیدار دفاتر میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں ، زمینی حالت سے ناواقف ، چیف منسٹر کی برہمی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے آئندہ چار ماہ کے دوران خسارے میں چلنے والے ادارہ آر ٹی سی کو نفع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے مثبت اقدامات نہ کرنے کی صورت میں آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کا انتباہ دیا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کل چیف منسٹر نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے آر ٹی سی کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور بتایا کہ آر ٹی سی کو خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت نے کئی مرتبہ مدد کی ہے ۔ منصوبہ جاتی اور غیر منصوبہ جاتی ( پلان ) کے تحت 3000 کروڑ روپئے مختص کئے ۔ تاہم توقع کے مطابق نتائج برآمد ہوئے جس پر چیف منسٹر نے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹیم ورک کی طرح کام کرنے پر ہی نتائج کی امید کی جاسکتی ہے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف آفسوں میں بیٹھ کر نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ ہی زمینی حقائق کو جانے بغیر کوئی حکمت عملی تیار کی جاسکتی ہے ۔ وہ چار ماہ کا وقت دے رہے ہیں ۔ صدر نشین آر ٹی سی ، منیجنگ ڈائرکٹر کے علاوہ دوسرے اعلیٰ عہدیدار خسارے میں چلنے والے ادارہ آر ٹی سی کو نفع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے جامع رپورٹ تیار کریں ۔ کونسی روٹ پر نقصانات ہورہے ہیں ۔ کیوں ہورہے ہیں ؟ اس پر قابو پانے کے لیے کونسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس پر حکمت عملی تیار کریں ۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری میدان سنبھال لیں اور نقصانات پر قابو پانے کے لیے جنگی خطوط پر اقدامات کریں ۔ بصورت دیگر ان کے پاس آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کے دوسرا کوئی راستہ نہیں رہے گا ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ کورونا ، لاک ڈاؤن اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے آر ٹی سی کو نقصان پہونچا ہے ۔ چیف منسٹر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف دفاتر میں بیٹھ کر کام کرنے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ عہدیدار دور دراز علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مسائل سے واقفیت حاصل کریں ۔ تب ہی توقع کے مطابق نتائج برآمد ہوں گے ۔ عہدیدار صرف آفسوں میں بیٹھ کر تال میل کرنے تک محدود رہے تو زمینی مسائل سے کیسے واقف ہوں گے ۔ انہیں کون حل کریں گے ۔ عہدیدار اپنا رویہ تبدیل کرلیں ۔ ریاست کے 97 ڈپوز نقصانات کا شکار ہیں ۔ بالخصوص گریٹر حیدرآباد کے حدود میں زیادہ نقصانات ہیں اس کی رپورٹ تیار کریں اور تجاویز بھی پیش کریں ۔۔ N