پنجاب کی طرح 90 فیصد پیداوار حاصل کرنے کی درخواست، ایف سی آئی کی پالیسی سے حکومت اور کسانوں کو مشکلات
حیدرآباد۔/17 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں کسانوں سے چاول کی خریدی کے مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے جاریہ سال ربیع سیزن میں کسانوں کی جانب سے چاول کی پیداوار کو مرکز کی جانب سے خریدے جانے کیلئے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔ مرکز پر خریدی کیلئے دباؤ بڑھانے کے مقصد سے چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کیا گیا ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں تلنگانہ ریاست اپنے قیام کے بعد سے زراعت کے شعبہ میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کے استحکام کیلئے متعارف کردہ اسکیمات اور اقدامات کے نتیجہ میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کسانوں کو سالانہ 10 ہزار روپئے فی ایکر سرمایہ کاری مدد کے علاوہ 24 گھنٹے مفت معیاری برقی کی سربراہی عمل میں آرہی ہے۔ تلنگانہ کے محنت کش کسانوں نے پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ تلنگانہ کے قیام سے قبل ریاست میں ہر جگہ خشک سالی اور بھوک مری کا ماحول تھا۔ ریاست میں آبپاشی سہولتوں میں اضافہ کے بعد نہ صرف غذائی اشیاء کی ضرورت کی تکمیل ہورہی ہے بلکہ تلنگانہ ملک میں سرپلس ریاست بن چکی ہے۔ تلنگانہ کے کسان اب ملک کے دیگر علاقوں کیلئے پیداوار کررہے ہیں۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے فوڈ سیکوریٹی کو لازمی قراردیتے ہوئے مناسب اسٹاک کی موجودگی اور عوامی نظام تقسیم کے ذریعہ چاول اور گیہوں کی سربراہی کے اقدامات کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی بعض پالیسیوں کے نتیجہ میں کسانوں اور ریاستی حکومتوں کو الجھن کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال بھر میں ایف سی آئی نے فصلوں کی خریدی کا نشانہ مقرر نہیں کیا۔ ہر سال پیداوار میں اضافہ کے باوجود خریدی کے معاملہ میں سست روی کا مظاہرہ ہے۔ مذکورہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ریاستوں کو فصلوں کے بارے میں منصوبہ بندی میں دشواری ہورہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ تلنگانہ میں خریف 2021 میں چاول کی پیداوار 55.75 لاکھ میٹرک ٹن رہی لیکن صرف 32.66 لاکھ میٹرک ٹن چاول خریدا گیا جو مجموعی پیداوار کا 59 فیصد ہے۔ 2019-20 میں 78فیصد پیداوار کی خریدی کی گئی تھی۔ پیداوار کی خریدی میں بھاری فرق کے سبب حکومتوں کو فصلوں کے طریقہ کار کو معقول بنانے میں دشواری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الجھن کی صورتحال کو دور کرنے کیلئے وزیر اغذیہ پیوش گوئل سے 25 اور 26 ستمبر کو نمائندگی کی جاچکی ہے۔ مرکزی وزیر سے فصلوں کی خریدی کا سالانہ نشانہ مقرر کرنے کی خواہش کی گئی۔ کے سی آر نے بتایا کہ مرکزی وزیر سے ملاقات کو 50 دن گذرنے کے باوجود نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کو ربیع 2020-21 کے تحت مابقی 5 لاکھ میٹرک ٹن چاول کی خریدی کی ہدایت دیں۔ انہوں نے جاریہ خریف 2021-22 کیلئے مقررہ نشانہ 40 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کر پیداوار کا 90 فیصد کرنے کی درخواست کی۔ پنجاب میں کسانوں سے 90 فیصد پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے مجوزہ ربیع سیزن کیلئے چاول کی خریدی کا نشانہ واضح کرنے کی درخواست کی۔ر