چاول کی پیداوار میں دنیا بھر میں ہندوستان کو پہلا مقام

   

150 ملین میٹرک ٹن پیداوار، ملک میں تلنگانہ کو دیگر ریاستوں پر سبقت
حیدرآباد ۔26 ۔ فروری (سیاست نیوز) ہندوستان میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی زرعی شعبہ اور کسانوں سے متعلق پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ حالیہ ٹریڈ ڈیل میں کسانوں کے مفادات کا سودا کیا ہے۔ حکومت کی پالیسی بھلے ہی زرعی شعبہ کے حق میں نہ ہو لیکن ہندوستان کے کسانوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے چاول کی پیداوار میں ملک کو دنیا میں نمبر ون بنادیا ہے۔ چاول کی پیداوار میں حالیہ عرصہ تک چین سرفہرست رہا لیکن ہندوستان نے چین کو بھی مات دے دی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں چاول کی پیداوار 150 ملین میٹرک ٹن درج کی گئی جبکہ چین میں 145.28 ملین میٹرک ٹن چاول کی پیداوار ہوئی ہے۔ ہندوستان نے پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ نہ صرف ملک کی آبادی کی ضروریات کی تکمیل کی ہے بلکہ عالمی سطح پر چاول کی برآمدات میں اضافہ کے ذریعہ دنیا کی چاول کی ضرورت کو پورا کیا جارہا ہے ۔ بنگلہ دیش 36.6 ملین میٹرک ٹن کے ساتھ تیسرے ، انڈونیشیا 34.1 ملین میٹرک ٹن کے ساتھ چوتھے اور ویتنام 26.75 ملین میٹرک ٹن کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے ۔ تھائی لینڈ میں 20.84 ملین میٹرک ٹن ، فلپائن 12.37 ملین میٹرک ٹن ، میانمار 11.9 ملین میٹرک ٹن ، پاکستان 9.72 ملین میٹرک ٹن اور برازیل میں 8.68 ملین میٹرک ٹن چاول کی پیداوار درج کی گئی۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ انڈین کونسل آف اگریکلچرل ریسرچ نے 25 مختلف فصلوں سے 184 نئی اقسام کی پیداوار کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں غذائی اجناس کا مناسب اسٹاک موجود ہے۔ مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ زرعی شعبہ میں ہندوستان نے ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے۔ چاول کی پیداوار میں ہندوستان دنیا میں نمبر ون ہے جبکہ اندرون ملک تلنگانہ ریاست چاول کی پیداوار میں سرفہرست بن چکی ہے۔ 2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں 16.63 ملین ٹن چاول کی پیداوار ہوئی جو ملک کی جملہ پیداوار کا 12.17 فیصد ہے۔ 2021-22 میں تلنگانہ چاول کی پیداوار میں مختلف ریاستوں سے پیچھے تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اترپردیش 15.72 ملین ٹن کے ساتھ دوسرے اور مغربی بنگال 15.12 ملین ٹن پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔1