گوگل میاپ نے اُس پل کا راستہ دکھایا جو تین سال سے بند تھا
چتور گڑھ ۔ 27 اگسٹ ۔ ( ایجنسیز ) راجستھان کے ضلع چتور گڑھ کے رشمی تھانہ علاقے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد ایک وین میں سفر کر رہے تھے جب ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ یہ حادثہ سومپی اپریڈا پل پر رات کے تقریباً ایک بجے اُس وقت پیش آیا جب گوگل میاپس کی ہدایت پر خاندان کا ڈرائیور اُس پل پر پہنچ گیا جو گزشتہ تین سال سے بند تھا۔یہ خاندان چتور گڑھ کے بھوپال ساگر تھانہ علاقے کے کنکھیڑا گاؤں کا رہائشی ہے۔ وہ بھیلواڑہ ضلع میں سوائی بھوج مندر کے درشن کے بعد واپس آ رہا تھا۔ دیر رات ہونے اور راستہ بھولنے پر انہوں نے مقامی دیہاتیوں سے مدد لی، جنہوں نے اُنہیں پل کی طرف جانے سے منع کیا۔ تاہم، گوگل میاپ نے انہیں اسی پل کا راستہ دکھایا جو تقریباً تین سال سے بند تھا۔یہاں، ماتری کنڈیا ڈیم کے پانچ دروازے کھولے جانے کی وجہ سے بناس ندی میں تیزی آگئی۔پل پر تیز پانی کے بہاؤ کے باعث گاڑی پھنس گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ندی میں بہہ گئی۔ ڈرائیور نے گاڑی کو باہر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا اور گاڑی تقریباً 300 میٹر تک بہہ گئی۔رشمی پولیس اسٹیشن کے انچارج دیویندر دیول کے مطابق حادثے میں دو خواتین اور ایک چار سالہ بچی کی نعش نکالی گئی ہے، جبکہ ایک خاتون ابھی تک لاپتہ ہے۔ حادثے میں بچ جانے والے پانچ افراد کو ماہی گیروں کی کشتی کے ذریعے بحفاظت نکالا گیا۔سائبر ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ گوگل میاپس پر اندھا اعتماد محفوظ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات نقشہ اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے غلط راستہ دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح بارش، طوفان یا سیلاب کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے کی بروقت معلومات بھی نقشے پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ GPS سگنل کمزور ہونے سے بھی غلط سمت دکھائی جا سکتی ہے۔پولیس، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ہلاک شدگان کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دی گئی ہیں اور ریسکیو ٹیمیں لاپتہ خاتون کو تلاش کر رہی ہیں۔یہ حادثہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے المیہ ثابت ہوا بلکہ گوگل میاپس کی درستگی اور اس پر اندھا بھروسہ کرنے پر بھی سنگین سوالات اُٹھا گیا ہے۔
گوگل میپ نے کیا گمراہ، وین دریا میں جا گری
ایک جاں بحق، تین لاپتہ
چتوڑگڑھ، 27 اگست (یو این آئی) راجستھان کے ضلع چتوڑگڑھ کے راشمی تھانہ علاقے میں منگل کی رات بناس ندی میں ایک وین کے گرنے سے ایک بچی کی موت ہو گئی جبکہ دو خواتین اور ایک بچی لاپتہ ہیں۔ پولیس ذرائع نے چہارشنبہ کو بتایا کہ بھوپال ساگر علاقے کے گاؤں کانا کھیڑا کے رہائشی ،گاڈری کنبے کے نو لوگ ایک وین میں بھیلواڑہ واقع سوائی بھوج مندر کے درشن کرکے واپس لوٹ رہے تھے ۔ ڈرائیور گوگل میپ کی مدد سے گاڑی چلا رہا تھا۔ رات ایک بجے وہ گوگل میپ کے ذریعے راشمی تھانہ علاقے کے سومی اور اپریڑا گاؤں کو جوڑنے والی بند پڑی پرانی پُلیہ پر پہنچ گئے جہاں ڈرائیور نے وین کوطغیانی پر آئی بناس ندی میں اتار دیا۔وین کچھ دور ایک بڑے گڑھے میں جا کر پلٹ گئی۔ وین میں سفر کررہے پانچ لوگ توکسی طرح محفوظ نکل آئے ، لیکن دو خواتین اپنی معصوم بچیوں کے ساتھ تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔ اطلاع ملتے ہی رات میں ہی راشمی تھانہ افسر اورمقامی افراد جائے وقوع پر پہنچ گئے ، لیکن اندھیرے کی وجہ سے بچأو کارروائی نہیں ہو سکی۔ آج صبح ضلع ہیڈکوارٹر سے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم موقع پر پہنچی اور لاپتہ لوگوں کی تلاش شروع کی۔ دو گھنٹے بعد خوشی نامی بچی کی لاش مل گئی، لیکن دو خواتین چندا گاڈری اور ممتا گاڈری اور بچی رُتوی کا پتہ نہیں چل سکا۔ صبح موقع پر ضلع کلکٹر سمیت دیگر افسران بھی پہنچ گئے اوربچأو کارروائی کا جائزہ لیا۔ قابل ذکر ہے کہ بناس ندی پر بنے ماترکنڈیا ڈیم میں راجسمند سے آئے پانی کے باعث آبپاشی محکمہ نے کل شام اعلان کر کے رات دس بجے ڈیم کے دومزید دروازے کھول دیے تھے جبکہ تین دروازے پہلے ہی کھلے ہوئے تھے ، جس سے بناس ندی رات کو طغیانی پر آگئی۔