گروگرام میں مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی نشانہ ، کرسمس تقریب میں شرانگیزی
گروگرام : ہریانہ کے گروگرام میں نمازکے بعد اب کرسمس سے بھی کچھ عناصرکوتکلیف ہے۔ زعفرانی تنظیموں کے کارکنوں کا ایک گروپ مبینہ طور پر کرسمس کے موقع پر ایک چرچ میں داخل ہوا اور کرسمس کی عبادت میں خلل ڈالا۔مقامی پولیس نے کہاہے کہ انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ کل شام کچھ لوگ چرچ کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں اور جئے شری رام اوربھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگاتے ہیں۔ وہ گانا گانے والے بھکتوں کو اسٹیج سے ڈھکیلتے اور ان سے مائیک چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گروگرام میں کچھ عوامی مقامات پر جمعہ کی نماز پڑھنے کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ایک مقامی پادری نے پی ٹی آئی کوبتایاہے کہ یہ خوفناک تھا کیونکہ چرچ میں خواتین اور بچے بھی موجودتھے۔ مقامی انتظامیہ نے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ گروگرام میں پچھلے کچھ مہینوں سے کھلے میں نماز پڑھنے کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ہریانہ کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں غنڈے لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔راجیہ سبھا کے سابق ایم پی محمد ادیب کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ گروگرام پولیس اور انتظامیہ کی بے عملی نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کو جنم دے رہی ہے۔