حیدرآباد۔6 فروری(سیاست نیوز) چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں دہشت مچائی ہوئی ہے اور اس وائرس کے متعلق کہا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کی ابتداء چمگادڑ سے ہوئی ہے اور یہ وائرس چمگادڑ سے ہوتے ہوئے انسان میں رسائی کر گیا ہے ۔ اب تک اس وائر س کی شروعات کے سلسلہ میں کی جانے والی تحقیق کے متعلق کہا جا رہاہے کہ چمگادڑ کے سبب یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور شہر حیدرآباد میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے علاوہ کئی مقامات پر چمگادڑوں کے بسیرے ہیں جس کے سبب مقامی عوام کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہاہے کیونکہ اب یہ بات عام ہونے لگی ہے کہ چمگادڑ اس وائرس کے پھیلنے کا سبب ہیں اور چمگادڑوں کی موجودگی سے عوام میں سراسمیگی پھیلتی جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ کی عمار ت میں موجود کئی درختوں پر چمگادڑ لٹکے پائے جاتے ہیں اور شہر کی کئی قدیم عمارتیں بھی چمگادڑوں کے بسیرے میں تبدیل ہوچکی ہیں جو کہ وائرس کے پھیلنے کا سبب بتائے جا رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد یا تلنگانہ میں تاحال کہیں کوئی مریض کورونا وائرس کا مثبت نہیں پایا گیا لیکن اس کے باوجود عوام میں خوف کا ماحول برقرار ہے اور ہائی کورٹ کے قریب چمگادڑوں کی بڑی تعداد کی موجودگی نے اس علاقہ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقہ کے عوام میں بھی تشویش پیدا کردی ہے اور کوئی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتا کہ اس علاقہ سے چمگادڑوں کو برخواست کیا جائے کیونکہ چمگادڑوں کے بسیروں کو ختم کیا جانا انتہائی دشوار کن ہے اور اب اس علاقہ کے عوام میں چمگادڑوں کی موجودگی کے مسئلہ پرمختلف قسم کی گفتگو شروع ہوچکی ہے اور بعض لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے معاملہ میں شدت کے متعلق غور کیا جا رہاہے تو بعض لوگوں کا کہناہے کہ ان چمگادڑوں کو ہائی کورٹ کی عمارت سے ہٹانے کیلئے مستقل اقدامات کے لئے توجہ مرکوز کروائی جانی چاہئے لیکن چمگادڑوں کو ہٹانے کے لئے کس محکمہ سے نمائندگی کی جائے اس بات سے کوئی واقف نہیں ہے لیکن چمگادڑوں کا خوف اس علاقہ کے عوام میں تیزی سے پھیلتا جا رہاہے کیونکہ جیسے جیسے اس بات کی توثیق ہوتی جا رہی ہے کہ چمگادڑوں کے سبب یہ وائرس پھیل رہا ہے تو عوام کے خوف میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور کوئی بھی اس سائنسی تحقیق سے انکار نہیں کر رہا ہے کہ چمگادڑ اس وائر س کے لئے ذمہ دار ہیں۔ بعض شہری تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ وائرس سے متاثرہ عوام کو شہر میں آنے سے روک سکتے ہیں لیکن جب یہ وائرس چمگادڑ میں ہے تو انہیں شہر میں آنے سے کیسے روک پائیں گے جبکہ بڑی تعداد میں چمگادڑ کئی علاقو ں میں پائے جاتے ہیں۔