1953 کا ریکارڈ موجود، کانگریس قائد جی نرنجن کا انکشاف
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے چندرائن گٹہ کے للیتا باغ میں انڈومنٹ اراضی پر ناجائز قبضے کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اراضی کے تحفظ کے لئے بی جے پی کے صدر بی سنجے کا احتجاج محض دکھاوا اور مضحکہ خیز ہے۔ پردیش کانگریس کے ترجمان جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی سنجے کو چیلنج کیا کہ وہ قابضین کے بی جے پی سے عدم تعلق کے بارے میں بھاگیہ لکشمی مندر پہنچ کر قسم کھائیں۔ نرنجن مندر پہنچ کر حلفیہ یہ ثابت کرنے تیار ہیں کہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والوں نے قبضہ کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ اراضی دراصل وقف ہے جو 1953 ء کے ریکارڈ میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1953 ء میں وقف اراضیات انڈومنٹ کی تحت تھیں ، اس وقت وقف بورڈ کا وجود نہیں تھا ۔ 1953 کے ریکارڈ میں للیتا باغ کی اراضی بحیثیت وقف درج ہے۔ نرنجن نے کہا کہ بنڈی سنجے احتجاج کے ذریعہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بی جے پی انڈومنٹ اراضیات کا تحفظ کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1987 ء سے مقامی کانگریس قائدین نے اراضی کا تحفظ کیا اور انڈومنٹ کو کئی مرتبہ اراضی کے آکشن سے روک دیا ۔ انہوں نے کہا کہ 1984 ء میں میر جملہ ٹینک کی اراضی فروخت کرنے والوں کا بی جے پی سے تعلق تھا اور بنڈی سنجے اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے۔ للیتا باغ کی اراضی کی فروخت میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ عدالت میں جعلی دستاویزات کے ذریعہ ملکیت کے بارے میں فیصلہ حاصل کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ نرسمہا ریڈی نامی شخص جس نے اراضی پر دعویٰ پیش کیا ہے ، اس کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ خاموش رہنے کیلئے مقامی بی جے پی قائدین نے بھاری رقم کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدم ادائیگی پر اراضی کے تنازعہ کو ہوا دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بی سنجے ان تمام تفصیلات سے واقف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 9 ماہ سے بی جے پی خاموش کیوں ہے ؟ جب عدالت سے فیصلہ حاصل کیا گیا تھا۔ انہوں نے جعلی دستاویزات کی جانچ کا مطالبہ کیا ۔
