چندرائن گٹہ کے مجلسی رکن اسمبلی اکبر اویسی کے خلاف مقدمہ درج

   

دھمکانے اور منافرت پھیلانے کا الزام ، پولیس کی از خود کارروائی
حیدرآباد ۔22۔نومبر (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ کے مجلسی رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کے خلاف سنتوش نگر پولیس نے دھمکانے اور منافرت پھیلانے کے الزام میں ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ منگل کی شب مجلس پارٹی کی جانب سے حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاقہ معین باغ میں جلسہ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں حلقہ چندرائن گٹہ کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی نے خطاب کیا تھا۔ اس دوران 9 بجکر 55 منٹ کو انسپکٹر سنتوش نگر پی شیوا چندرا نے اکبرالدین اویسی کے اسٹیج کے قریب پہنچ کر مقررہ وقت 10 بجے مکمل ہونے کی اطلاع دی جس پر اکبرالدین اویسی برہم ہوگئے اور انسپکٹر کو مبینہ طور پر دھمکایا اور وہاں سے چلے جانے کیلئے کہا۔ اکبرالدین اویسی نے انسپکٹر سے یہ کہا کہ ’’میرے پاس بھی گھڑی ہے، پھر چلایئے گولیوں اور چاقوؤں کی آواز سن کر مجھ کو کمزور مت سمجھئے گا اور ٹائم ہے میرے پاس۔ کوئی مائیکا لال پیدا نہیں ہوا مجھے روکنے کیلئے ، چندرائن گٹہ بتادو صحیح ہے نا اور اشارہ کیا تو بھاگنا پڑے گا، کوئی کچھ کرنے والا نہیں ہے۔ یہ آر ایس ایس کا ٹلو آیا ہے نا کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے، کہاں ہے یہ کرن، یہ ٹلو بھی ڈوب جائے گا‘‘۔ اس اشتعال انگیز تقریر کرنے پر اور پولیس عہدیدار کو روکنے کے نتیجہ میں انسپکٹر سنتوش نگر پولیس اسٹیشن پی شیو کمار نے پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کروائی جس میں کہا گیا کہ اکبرالدین اویسی نے انہیں ان کے فرائض انجام دینے سے روکا اور دھمکایا۔ پولیس نے از خود کارروائی کرتے ہوئے اکبرالدین اویسی کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ 353 (سرکاری ملازم پر حملہ کرنا) ، 506 (دھمکانا) ، 153-A (دونوں فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانا) ، 505(2) (اشتعال انگیز بیان دینا) اور آر پی ایکٹ کے دفعہ 125 (انتخابات کے دوران دونوں فرقوں میں منافرت پھیلانا) کے تحت ایک مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ اسی دوران آج رات دیر گئے پولیس کمشنر حیدرآباد سندیپ شنڈالیہ نے سنتوش نگر پولیس اسٹیشن پہنچ کر وہاں کا معائنہ کیا اور اس کیس کا جائزہ لیا۔واضح رہے کہ اکبرالدین کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر نرمل اور نظام آباد میں دو مقدمات درج کئے گئے تھے جس میں ان کی 2022 ء میں برأت ہوئی۔ اسی طرح اکبرالدین اویسی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دئے گئے حلفنامہ میں یہ بتایا گیا کہ ان کے خلاف چار مقدمات کشن گنج بہار ، کلثوم پورہ حیدرآباد ، آردھا پور (مہاراشٹر) اور کڑپہ (آندھراپردیش) میں زیر التواء ہے۔ یہ تمام مقدمات منافرت اور اشتعال انگیز تقریر کے ہیں۔ب