جعلی دستاویزات سے اراضیات پر قبضہ جات ، چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ
حیدرآباد :۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاقہ بندلہ گوڑہ ، غوث نگر ، قبا کالونی ، تعلیم آباد ، علی نگر ، احمد نگر ، نوری نگر ، محمد نگر ، اسمعیل نگر ، قلدی نگر ، جل پلی تالاب سے منسلک کالونیز وغیرہ میں مقیم معصوم و بھولے بھالے عوام کی زندگی ان دنوں اجیرن بنی ہوئی ہے ۔ کیوں کہ ان علاقوں میں جعلی دستاویزات کے ذریعے ان کی جائیداد پر قبضے کیے جارہے ہیں ۔ برسوں قبل خریدے گئے پلاٹوں پر مکانات تعمیر کرنے والے ان بھولے بھالے لوگوں کو اچانک بے دخل کیا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں جائیداد کو
Noterised assessment
تیار کرتے ہوئے رجسٹریشن کروا کر فروخت کیا جارہا ہے اور اس کام کے لیے ڈپٹی کمشنر سرکل نمبر 8 پھول باغ حیدرآباد کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ۔ علاوہ ازیں رجسٹریشن کے لیے
S.R.O
اعظم پورہ بھی بھر پور تعاون کررہا ہے ۔ اس Land Mafia کی غنڈہ گردی سے ان علاقوں کی عوام تنگ آچکی ہے ۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کلکٹر آفس میں ایک خصوصی شعبہ
Land Grabbing Cell
قائم کرتے ہوئے معصوم عوام کی مشکلوں کو دور کیا جائے ۔ عوام کو شکایت ہے کہ ڈپٹی کمشنر جی ایچ ایم سی سرکل نمبر 8 اور دفتر سب رجسٹرار اعظم پورہ میں رشوت خوری عام ہونے کے باعث زمینات پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو بہت سہولت ہوگئی ہے اور وہ بآسانی غریبوں کا استحصال کرتے ہوئے ان کی جائیداد ہڑپ کررہے ہیں ۔ مندرجہ بالا علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں غریب و لاچار عوام کی زندگی بھر کی کمائی آناً فاناً برباد ہورہی ہے ۔ لہذا چیف منسٹر تلنگانہ جناب چندر شیکھر راؤ سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں ہم غریبوں کی مدد فرمائیں اور ان ظالم غنڈوں کے ظلم سے نجات دلائیں ۔۔