نامور وکیل سدھارتھ لوترا چیف جسٹس بنچ سے رجوع، سیاسی انتقامی کارروائی کی شکایت
حیدرآباد 25 ستمبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے سابق چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے چندرابابو نائیڈو کے وکیل کو مشورہ دیا کہ وہ کل 26 ستمبر کو یہ درخواست پیش کریں۔ چندرابابو نائیڈو کے خلاف اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اسکام میں سی آئی ڈی کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی اور آج ہی سماعت کی اپیل کی گئی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سینئر کونسل سدھارتھ لوترا کو ہدایت دی کہ وہ کل یعنی منگل کو اِس معاملہ کو پیش کریں اُس وقت ہم طے کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ سدھارتھ لوترا نے چیف جسٹس کے اجلاس پر پیش ہوتے ہوئے ہنگامی طور پر سماعت کی خواہش کی اور کہاکہ مقدمہ کو فہرست میں شامل کیا جائے۔ چندرابابو نائیڈو کے وکیل نے کہاکہ اُن کے موکل 8 ستمبر سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ چیف جسٹس نے ہنگامی طور پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے سدھارتھ لوترا کو مشورہ دیا کہ وہ کل اِس مسئلہ کو رجوع کریں اور بنچ اِس بات کا فیصلہ کرے گا کہ معاملہ کی سماعت کب کی جائے گی۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش ہائیکورٹ کے سنگل جج جسٹس سرینواس ریڈی نے 22 ستمبر کو چندرابابو نائیڈو کی جانب سے دائر کردہ کواش پٹیشن کو مسترد کردیا تھا جس پر سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست پیش کی گئی۔ سدھارتھ لوترا نے کہاکہ آندھراپردیش میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے مقدمہ کو فوری سماعت کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل بنچ نے کہاکہ اِس سلسلہ میں کل آپ رجوع ہوسکتے ہیں۔ چندرابابو نائیڈو کے وکیل نے کہاکہ سی آئی ڈی نے نائیڈو کے خلاف 371 کروڑ کے مبینہ اسکام میں ایف آئی آر درج کرنے سے قبل گورنر سے اجازت طلب نہیں کی ہے۔ انسداد رشوت ستانی قانون کے تحت لیڈر آف اپوزیشن کی گرفتاری کے لئے گورنر سے اجازت ضروری ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 9 ڈسمبر 2021 ء کو ایف آئی آر درج کی گئی اور 7 ستمبر 2023 ء کو نائیڈو کو ملزم نمبر 37 کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے نوجوانوں کو ٹریننگ اسکیم پر عمل آوری کے وقت چندرابابو نائیڈو چیف منسٹر تھے۔ وکیل نے کہاکہ سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت چندرابابو نائیڈو کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کے افراد خاندان کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ سی آئی ڈی نے 9 ستمبر کو نائیڈو کو نندیال سے گرفتار کیا اور دوسرے دن اے سی بی کورٹ وجئے واڑہ نے اُنھیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں دے دیا۔ عدالتی تحویل ختم ہونے پر 5 اکٹوبر تک توسیع کی گئی۔