حیدرآبادیکم جنوری(یواین آئی) آندھراپردیش کے سابق وزیراعلی و تلگودیشم کے قومی صدر این چندرابابونائیڈو نے ریاست کے تین دارالحکومتوں کی تجویز کے خلاف آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی کے کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر ان کسانوں سے ملاقات کی اور ان کے احتجاج میں شامل ہوئے ۔چندرابابونے نئے سال کی تقاریب سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے دارالحکومت کے مواضعات کا دورہ کیا۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھونیشوری بھی تھیں۔بعد ازاں چندرابابو اور ان کی اہلیہ نے کسانوں کے ساتھ دھرنے میں شامل ہوتے ہوئے ان سے یگانگت کا اظہار کیا۔اس موقع پر بعض خواتین نے چندرابابو کے سامنے اپنے مسائل پیش کئے ۔ کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہاکہ خوشی کے موقع پر کسان سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ کسانوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دارالحکومت کے لئے ان کسانوں نے اپنی اراضیات دی ہیں تاہم اب حکومت دارالحکومت کو تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔چندرابابو نے کہاکہ انہوں نے ویثرن 2020کے ذریعہ حیدرآباد کو ترقی دی تھی۔جس طرح حیدرآباد کو انہوں نے ترقی دی تھی وہ یہاں کے لئے بھی ایسا ہی خواب رکھتے ہیں۔ چندرا بابو نے کہاکہ انہوں نے مائیکرو سافٹ کمپنی کے مرکز کو حیدرآباد میں قائم کروایا تھا، عوام کی خدمت کرتے ہوئے انہوں نے ترقی کے کام کروائے تھے ۔چندرابابو کی اہلیہ نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل ایک خاتون ہی سمجھ سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کے شوہر نے اے پی کو اونچے مقام پر لانے کے لئے چندرابابو نائیڈو نے بے تکان جدوجہد کی ہے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وجئے واڑہ کے رکن پارلیمنٹ کیشونینی نانی نے کہا کہ دارالحکومت کو منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔حکومت کی جانب سے تین دارالحکومتوں کی تجویز نامناسب ہے ، اس سے فوری دستبرداری کی ضرورت ہے ۔