چندرا بابو حکومت کے فیصلوں کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کا قیام

   

پراجکٹس اور اراضیات کے معاملہ میں اسپیکر کے احکامات کی تکمیل

حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگریس حکومت نے ریاست کی تقسیم کے بعد سے اسوقت کی چندرا بابو نائیڈو حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلوں میں مبینہ بدعنوانیوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینی سب کمیٹی کی سفارشات کے مطابق تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی۔ پرنسپل سکریٹری جی اے ڈی پراوین پرکاش نے جی او آر ٹی 344 جاری کیا۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ 2 جون 2014 کے بعد سے حکومت کے اہم پالیسی فیصلوں، پراجکٹس، پروگراموں، اداروں کے قیام اور دیگر انتظامی فیصلوں کی جانچ کیلئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سب کمیٹی نے حکومت کو اپنی پہلی رپورٹ میں مختلف قانونی، مالیاتی بے قاعدگیوں اور قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔ سی آر ڈی اے ریجن میں اراضی کے الاٹمنٹ میں بھی دھاندلیوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکومت نے اس مسئلہ کو ریاستی اسمبلی میں پیش کیا اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی نے ان معاملات کی جامع تحقیقات کی ہدایت دی۔ حکومت نے 10 رکنی SIT کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر کے رگھورام ریڈی آئی پی ایس ڈی آئی جی انٹلیجنس ہوں گے جبکہ ارکان کی حیثیت سے بی اتاڈہ ( آئی پی ایس) ایس پی وشاکھاپٹنم، سی ایچ وینکٹ اپلا نائیڈو ( آئی پی ایس ) ایس پی انٹلیجنس، سرینواس ریڈی ایڈیشنل ایس پی کڑپہ، جئے رام راجو ڈی ایس پی انٹلیجنس، وجئے بھاسکر ڈی ایس پی ویجیلنس اینڈ انفورسمنٹ، ایم گریدھر ڈی ایس پی انٹلیجنس، کنیڈی انسپکٹر ایلور رینج، آئی سرینواسن انسپکٹر نیلور رینج اور ایس وی راج شیکھر ریڈی انسپکٹر گنٹور کو بطور ارکان شامل کیا گیا۔ SIT کو تحقیقات کے سلسلہ میں سی آر پی سی کے تحت مقدمات درج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ریاستی اور مرکزی تحقیقاتی اداروں کے درمیان اطلاعات کے تبادلہ کے سلسلہ میں ایس آئی ٹی نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔ ایس آئی ٹی کو تحقیقات کے سلسلہ میں کسی کو طلب کرنے اختیاررہے گا۔ تمام محکمہ جات کوایس آئی ٹی سے تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔