چندرا بابو نائیڈو تلگو ریاستوں میں آبی تنازعہ کی باہمی یکسوئی کے خواہاں

   

گوداوری کے فاضل پانی کے استعمال پر اعتراض کی گنجائش نہیں، مشرقی گوداوری میں جلسہ سے خطاب
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھرا پردیش کے آبی مفادات کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آندھرا پردیش حکومت تلنگانہ کے ساتھ آبی تنازعہ کی خوشگوار یکسوئی کی خواہاں ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے مشرقی گوداوری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر تنازعہ کے بجائے دونوں ریاستوں کو باہمی مشاورت کے ساتھ یکسوئی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش پولاورم پراجکٹ سے تلنگانہ کو پانی سربراہ کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ دونوں ریاستیں کرشنا اور گوداوری کے فاضل پانی سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں ٹی ایم سی پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ اگر آندھرا پردیش پولاورم پراجکٹ کے لئے گوداوری کا فاضل پانی استعمال کرتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائلسیما کے علاوہ آندھرا پردیش کے پسماندہ علاقوں کے لئے یہ پراجکٹ مدد گار ثابت ہوگا۔ چندرا بابو نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ سابق چیف منسٹر وائی جگن موہن ریڈی کو آبپاشی کی معلومات نہیں تھیں جس کے نتیجہ میں پراجکٹس کی تکمیل میں پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانی کی تقسیم کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے میں یقین نہیں رکھتے۔ تلگو ریاستوں کو باہمی تعاون کے ذریعہ آبی تقسیم کا تنازعہ حل کرنا چاہئے اور یہی دونوں ریاستوں کے مفاد میں ہے۔ واضح رہے کہ پولاورم ۔ بنکاچرلا پراجکٹ کی تلنگانہ کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ آندھرا پردیش نے بھی تلنگانہ میں زیر تکمیل پراجکٹس پر اعتراض جتایا ہے۔ 1