چندرا بابو نائیڈو نے کے سی آرکی غیر متوقع ستائش کی

   

مختلف شعبوںمیں تلنگانہ کی ترقی کا اے پی سے تقابل، پارٹی کارکنوں سے خطاب

حیدرآباد۔/26جولائی، (سیاست نیوز) صدر تلگودیشم اور سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کی ترقی اور خاص طور پر کسانوں کی بھلائی کیلئے کے سی آر کی ستائش کی ہے۔ پارٹی کی قومی عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلنگانہ ہر شعبہ میں بہتر ترقی کررہا ہے جو حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جبکہ آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کی قیادت میں ہر شعبہ میں پسماندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے نتیجہ میں اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آبپاشی کیلئے پانی دستیاب ہو تو پھر اراضیات کی قیمت میں اضافہ یقینی ہے۔ صنعتوں کے قیام اور سڑکوں کی تعمیر سے بھی اراضی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ایک وقت وہ تھا جب آندھرا پردیش کے کسان ایک ایکر اراضی فروخت کرکے حیدرآباد میں 4 ایکر اراضی خرید سکتے تھے لیکن آج صورتحال برعکس ہے، اگر حیدرآباد میں ایک ایکر اراضی فروخت کی جائے تو آندھرا پردیش میں 100 ایکر اراضی خریدی جاسکتی ہے۔ دونوں ریاستوں میں ترقی کا تقابل کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس حکومت پر مخالف کسان پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے دباؤ کے باوجود کے سی آر حکومت نے زرعی پمپ سیٹس کو برقی میٹرس نصب کرنے سے انکار کردیا اور یہ فیصلہ جر￿تمندانہ اور کسانوں کے حق میں ہے۔