فرش پر بیٹھ کر احتجاج، آندھراپردیش کے کئی اضلاع میں تلگو دیشم کے مظاہرے
حیدرآباد: سابق چیف منسٹر اور تلگو دیشم کے قومی صدر این چندرا بابو نائیڈو نے آج تروپتی کے رینی گنٹہ ایرپورٹ پر اس وقت احتجاج کیا جب پولیس نے انہیں ایرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازتی نہیں دی۔ چندرا بابو نائیڈو چتور ضلع کے دورہ پر پہنچے تھے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں دورہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے دورہ کی اجازت کی اطلاع دی لیکن پولیس عہدیدار ماننے کیلئے تیار نہیں تھے۔ پولیس عہدیداروں کے رویہ سے برہم ہوکر چندرا بابو نائیڈو فرش پر بیٹھ گئے اور خاموش احتجاج کیا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اورکرسی فراہم کی گئی لیکن وہ فرش پر بیٹھے رہے۔ رینی گنٹہ ایرپورٹ پر ہلکی سے کشیدگی پیدا ہوگئی کیونکہ تلگو دیشم کے مقامی قائدین اور کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے چندرا بابو نائیڈو ، ان کے پی اے اور ہیلت آفیسر کا ٹیلیفون جبراً حاصل کرلیا۔ چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ موجود دیگر قائدین کے سیل فون بھی حاصل کرلئے گئے جس پر نائیڈو اور عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے ضلع کلکٹر اور ایس پی سے ملاقات کیلئے اجازت طلب کی ۔ پولیس عہدیداروں نے ایرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ جو کچھ بھی کہنا ہے کہ ان سے کہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کے حامیوں کی کثیر تعداد کے جمع ہوجانے سے صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔ چندرا بابو نائیڈو سے پولیس عہدیداروں نے ہاتھ جوڑ کر احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی لیکن نائیڈو نے کہا کہ وہ 14 برس تک چیف منسٹر رہے اور اب اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے وہ چتور کا دورہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کے رویہ کی مذمت کی اور حکومت کے اشارہ پر کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار ایرپورٹ پہنچے اور چندرا بابو نائیڈو کو حیدرآباد روانہ کرنے کی تیاری کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ نائیڈو نے چتور ضلع کا دورہ کرنے کے بعد ہی واپس ہونے کا اعلان کیا۔ آندھراپردیش کے مختلف اضلاع میں چندرا بابو نائیڈو کی تائید میں تلگو دیشم کارکنوں نے احتجاج کیا۔