چندرا بابو نائیڈو کی بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری، مودی اور امیت شاہ کی شرکت

,

   

جنا سینا کو 3 اور بی جے پی کو ایک نمائندگی،این محمد فاروق واحد مسلم وزیر، گورنر جسٹس عبدالنذیر نے 24وزراء کو عہدہ و رازداری کا حلف دلایا

حیدرآباد۔/12 جون، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں پانچ سال کے وقفہ کے بعد تلگودیشم کا اقتدار واپس ہوچکا ہے۔ صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے آج چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف لیا اور ان کے ساتھ 24 ریاستی وزراء کو بھی حلف دلایا گیا۔ گناورم کے کیسرا پلی آئی ٹی پارک گراؤنڈ پر تقریب حلف برداری کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں قومی اور علاقائی قائدین کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں تلگودیشم کے کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ گورنر آندھرا پردیش جسٹس عبدالنذیر نے چیف منسٹر اور وزراء کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ مرکز میں تلگودیشم کیی تائید سے نریندر مودی حکومت کی تشکیل کے بعد چندرا بابو نائیڈو کی تقریب حلف برداری سیاسی نوعیت سے غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، مرکزی وزیر جے پی نڈا، سابق نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، چیف منسٹر مہاراشٹرا ایکناتھ شنڈے، مرکزی وزراء چراغ پاسوان، بنڈی سنجے، سابق گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن، سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا، فلم اسٹار رجنی کانت، میگا اسٹار چرنجیوی، بالا کرشنا کے علاوہ کئی قومی اور علاقائی سطح کی اہم شخصیتوں نے تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ اہم شخصیتوں کی شرکت کے پیش نظر گناورم میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور اطراف میں ٹریفک تحدیدات عائد کی گئی تھیں۔ امیت شاہ اور جے پی نڈا کل رات ہی امراوتی پہنچ گئے اور انہوں نے کابینہ کی تشکیل پر چندرا بابو نائیڈو سے بات چیت کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج صبح نئی دہلی سے امراوتی پہنچے اور تقریب حلف برداری کے فوری بعد اوڈیشہ روانہ ہوگئے۔ این چندرا بابو نائیڈو نے 11:27 بجے چیف منسٹر کے عہدہ کا تلگو زبان میں خدا کے نام پر حلف لیا۔ ان کے بعد جنا سینا کے سربراہ پون کلیان کو حلف دلایا گیا۔ 25 رکنی کابینہ میں چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ تلگودیشم کے 20 وزراء کو شامل کیا گیا۔ جنا سینا سے 3 اور بی جے پی سے ایک وزیر کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کابینہ کی تشکیل میں تمام مذاہب کو مساوی نمائندگی کی کوشش کی ہے۔ کابینہ میں نئے چہروں اور نوجوانوں کو اہمیت دی گئی۔ 3 خواتین کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔ بی سی طبقہ سے 8 ، ایس سی 2 ، ایس ٹی ایک اور ایک مسلم کو کابینہ میں نمائندگی دی گئی ہے۔ ویشیا کمیونٹی سے ایک وزیر شامل کیا گیا۔ اعلیٰ طبقات میں کاپو کو 4 ، کما کو 4 اور ریڈی طبقہ سے 3 وزراء کو شامل کیا گیا۔ کابینہ میں پہلی مرتبہ شمولیت اختیار کرنے والوں میں پون کلیان کے علاوہ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند نارا لوکیش شامل ہیں۔ حلف برداری کیلئے وسیع و عریض اسٹیج سجایا گیا تھا اور گورنر جسٹس عبدالنذیر اور ان کی اہلیہ کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی، چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو اور ان کی اہلیہ بھونیشوری کو مرکزی مقام پر جگہ دی گئی تھی۔ مرکزی وزراء اور دیگر اہم شخصیتوں کیلئے علحدہ انکلوژر قائم کیا گیا تھا جبکہ بائیں جانب وزراء کیلئے نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب حلف برداری سے ایک گھنٹہ قبل ہی آئی ٹی پارک گراؤنڈ تقریباً بھر چکا تھا اور وقفہ وقفہ سے نریندر مودی اور چندرا بابو نائیڈو کے حق میں نعرہ بازی جاری تھی۔ وزیر اعظم کی اوڈیشہ روانگی کے شیڈول کو دیکھتے ہوئے تقریب میں تقاریر کا کوئی نظم نہیں تھا۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی 175 رکنی قانون ساز اسمبلی میں تلگودیشم، بی جے پی اور جنا سینا اتحاد نے مقابلہ کیا جس میں تلگودیشم کو 135 ، جنا سینا 21 اور بی جے پی کو 8 نشستوں پر کامیابی ملی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ و سابق چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے بشمول 11 ارکان منتخب ہوئے۔ حلف لینے والے وزراء میں پون کلیان، نارا لوکیش، این منوہر، کے اچن نائیڈو، اے ستیہ پرکاش، کے رویندر، کے پارتھا سارتھی، پی نارائنا، این محمد فاروق، پی کیشو، کے درگیش، بی بالا ویرانجنے سوامی، جی روی کمار، جی سندھیا رانی، بی جناردھن ریڈی، ٹی جی بھرت، ایس ساویتا، وی سبھاش، کے سرینواس اور رام پرساد ریڈی شامل ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے سابق دور حکومت میں ان سے قربت رکھنے والے سینئر قائدین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ جنا سینا کی جانب سے این منوہر، کے درگیش اور پون کلیان کو کابینہ میں شامل کیا گیا جبکہ بی جے پی کی نمائندگی ستیہ کمار یادو کررہے ہیں۔1