حیدرآباد ۔9۔اکتوبر (سیاست نیوز) صدر تلگو دیشم و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو آج سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی اور عدالت نے اسکل ڈیولپمنٹ اسکام کے سلسلہ میں سی آئی ڈی کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا ۔ جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس بی ایم ترویدی پر مشتمل بنچ پر آج چندرا بابو نا ئیڈو اور سی آئی ڈی کے وکلاء نے دلائل پیش کئے ۔ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے سینئر وکلاء ہریش سالوے ، ابھیشک منو سنگھوی اور سدھارت لوترا نے دلائل پیش کرتے ہوئے سی آئی ڈی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔ ہریش سالوے نے انسداد رشوت ستانی قانون کی دفعہ 17-A میں نقائص کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو پر اس سیکشن کا اطلاق نہیں ہوتا ، لہذا سی ڈی سی آئی ڈی کا مقدمہ غیر قانونی ہے۔ ہریش سالوے نے کہا کہ اس قانون کے تحت گرفتار کئے گئے افراد کو ضمانت مل چکی ہے اور چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ جسٹس ترویدی نے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ معاملہ میں 10 فیصد بجٹ حکومت کی جانب سے مختص کیا گیا جبکہ سمنس کمپنی نے بعد میں 90 فیصد رقومات جمع کی ہیں۔ آندھراپردیش حکومت کے وکیل مکل روہتگی نے عدالت سے درخواست کی کہ منگل کو دلائل پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے انہیں اجازت دینے سے اتفاق کیا ۔ فریقین کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے منگل کو دوبارہ سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 3 اکتوبر کو فریقین نے بحث کی تھی۔ آندھراپردیش حکومت کی درخواست پر سماعت کو ملتوی کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے ججس نے ہائی کورٹ میں زیر دوران مقدمہ کے بارے میں تفصیلات معلوم کیا ۔ چندرا بابو نائیڈوکے وکلاء نے بتایا کہ سی آئی ڈی کے پہلے ایف آئی آر میں ان کے موکل کا نام شامل نہیں تھا ۔ بعد میں نام شامل کیا گیا۔