چندرا بابو نائیڈو کی نئی دہلی میں امیت شاہ اور جے پی نڈا سے ملاقات

   

حیدرآباد۔/4 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تلگودیشم اور بی جے پی کی مشترکہ انتخابی حکمت عملی کو قطعیت دینے کیلئے صدر تلگودیشم اور سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ تلگودیشم سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان راجیہ سبھا سوجنا چودھری اور سی ایم رمیش نے ان ملاقاتوں میں اہم رول ادا کیا۔ اطلاعات کے مطابق نائیڈو اور امیت شاہ کے درمیان کل رات دیر گئے ایک گھنٹہ سے زائد تک تلگو ریاستوں کی سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ دونوں پارٹیوں نے سرکاری طور پر ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی لیکن باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں امکانی مفاہمت پر بات چیت ہوئی ہے۔ تلگودیشم نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بی جے پی اور پون کلیان کی جنا سینا کے ساتھ متحدہ طور پر مقابلہ کا پیشکش کیا ہے تاکہ تینوں پارٹیوں کو فائدہ ہو۔ تلگودیشم پارٹی 2014 میں این ڈی اے کا حصہ تھی لیکن مارچ 2018 میں اس نے علحدگی اختیار کرلی اور 2019 انتخابات کا تنہا سامنا کیا۔ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کا مطالبہ کرتے ہوئے علحدگی اختیار کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ ’ من کی بات‘ پروگرام میں تلگودیشم کے بانی این ٹی راما راؤ کی بھرپور ستائش کی تھی۔ چندرا بابو نائیڈو نے بھی کئی مواقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ستائش کی۔ 2019 عام انتخابات کے بعد امیت شاہ سے چندرا بابو نائیڈو کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ نائیڈو G-20 قائدین کے اجلاس میں شرکت کیلئے نئی دہلی میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔ آندھرا پردیش میں تلگودیشم اور جنا سینا نے انتخابی مفاہمت سے اتفاق کرلیا ہے۔ امیت شاہ سے ملاقات کے موقع پر تلگودیشم کے ارکان پارلیمنٹ کے رام موہن نائیڈو، کے سرینواس اور کے رویندر کمار کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ کے رام موہن راؤ موجود تھے۔ چندرا بابو نائیڈو نے تلگوریاستوں کی سیاسی صورتحال سے واقف کرایا۔ 2019 انتخابات میں شکست کے بعد سے چندرا بابو نائیڈو بی جے پی سے مفاہمت کی مساعی کررہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مفاہمت کے نتیجہ میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں میں بہتر مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آندھرا پردیش میں اقتدار کی صورت میں بی جے پی کو حکومت میں شامل کرنے کا پیشکش کیا ہے۔ر