کوئی غلطی کرے بغیر ان کے والد کو سائیکو چیف منسٹر جگن نے جیل میں رکھا
حیدرآباد ۔ 21 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری و سابق وزیر نارالوکیش جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ اپنے والد چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری پر پارٹی کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جگن موہن ریڈی کی سائیکو حکومت میں سائیکل چلانا بھی گناہ تصور کیا جارہا ہے۔ لوکیش نے کہا کہ ان کے والد تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو بغیر کسی قصور و غلطی کے گرفتار کیا گیا جس کی جگن ریڈی حکومت کو قیمت چکانی پڑے گی۔ نارالوکیش نے کہا کہ ان کا خاندان ہر سال اپنی جائیداد اور آمدنی کا اعلان کرتا ہے۔ اگر دولت کمانا ہوتا تو چندرا بابو نائیڈو کو سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔ عوامی خدمات کی خاطر چندرا بابو نائیڈو سیاست میں ہے۔ ہزاروں افراد کو انہوں نے روزگار کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ ایسے بیباک اور بے لوث قائد کے خلاف چوری کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ نائیڈو نے ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے کام کیا ہے۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی پر سیاست کا نشہ غالب ہوگیا۔ وہ انتقامی کارروائی میں نچلے سطح کی سیاست کرتے ہوئے سابق چیف منسٹر کو جیل میں رکھا ہے۔ آج نائیڈو کا خاندان پریشان ہے۔ مستقبل میں ہر خاندان کو شاید ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ سائیکو جگن موہن ریڈی کے خلاف تلگودیشم پارٹی اور جنا سینا احتجاج نہ کرتی تو ریاست کو ٹکڑے کرکے فروخت کردیا جاتا تھا۔ عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے والے چندرا بابو نائیڈو کو جیل میں رکھا گیا ہے۔ آئندہ انتخابات میں تلگودیشم جنا سینا اتحاد کو 160 سے زائد اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ن