چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ میں سماعت مکمل ، فیصلہ محفوظ

   

اندرون دو یوم فیصلہ سنایا جائیگا، اے سی بی عدالت میں سماعت ملتوی

حیدرآباد۔/19 ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر و صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کی اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست پر سماعت مکمل ہوچکی ہے اور ہائی کورٹ نے آئندہ دو دنوں میں فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے داخل کردہ چارج شیٹ کو کالعدم قرار دینے کیلئے چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی جس پر دوپہر 12 بجے سے مباحث کا آغاز ہوا اور تقریباً 5 گھنٹوں تک فریقین کے وکلاء نے بحث کی۔ بحث کی تکمیل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے آئندہ دو دن میں سنانے کا اعلان کیا۔ وکلاء کی جانب سے بحث کے دوران انسداد رشوت ستانی قانون کے اطلاق سے متعلق ٹھوس دلائل پیش کئے گئے۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل ہریش سالوے نے انسداد رشوت ستانی قانون کے سیکشن 17A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس معاملہ میں چندرا بابو نائیڈو کو ماخوذ کیا گیا ہے وہ مذکورہ قانون کے تحت نہیں آتا۔ سی آئی ڈی کا الزام ہے کہ بڑے پیمانے پر رقم منتقل کی گئی لیکن یہ رقم کہاں منتقل ہوئی اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ کابینہ نے کیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر ایک سازش کے تحت چندرا بابو نائیڈو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہریش سالوے نے کہا کہ اس مقدمہ میں شکایت ایک فرضی شکایت کی طرح ہے اور ایف آئی آر میں سابق چیف منسٹر کا نام شامل نہیں تھا۔ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے نامور وکلاء ہریش سالوے اور سدھارتھ لوترا نے دلائل پیش کئے۔ حکومت کی جانب سے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایک خانگی کمپنی کے ذریعہ رقومات منتقل کی گئی ہیں اور رقومات کی منتقلی سے متعلق تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ وکلاء نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے معاملہ میں سیکشن 17A کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کارپوریشن کی جانب سے حلفنامہ داخل کیا گیا۔ کمپنی کے وکلاء نے مباحث کیلئے ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ اسی دوران اینٹی کرپشن کورٹ میں سی آئی ڈی کی جانب سے نائیڈو کی کسٹڈی حاصل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کو 21 ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔ ہائی کورٹ میں سماعت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔