کپم میونسپلٹی پر برسراقتدار پارٹی کا قبضہ، تلگودیشم کا مظاہرہ مایوس کن
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں مجالس مقامی کے انتخابات میں صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کو اس وقت شدید جھٹکہ لگا جب ان کے اسمبلی حلقہ کپم میونسپلٹی پر وائی ایس آر کانگریس نے قبضہ کرلیا۔ کپم نہ صرف چندرا بابو نائیڈو کا انتخابی حلقہ ہے بلکہ اسے تلگودیشم کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے لیکن اس قلعہ پر وائی ایس آر کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔ کپم میونسپلٹی کی 25 نشستوں کے چناؤ میں برسراقتدار وائی ایس آر کانگریس کو 18 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ تلگودیشم کو صرف 6 نشستوں کی کامیابی پر اکتفاء کرنا پڑا۔ وارڈ نمبر 14 میں وائی ایس آر کانگریس امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ کپم میونسپلٹی پر قبضہ کے بعد وائی ایس آر کانگریس کارکنوں نے جشن منایا جبکہ تلگودیشم کیڈر میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ کپم میں وائی ایس آر پارٹی کے دفتر میں آتشبازی کے ذریعہ جشن کا ماحول تھا۔ مقامی تلگودیشم قائدین نے دھاندلیوں اور اقتدار کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پہلے ہی دن سے وائی ایس آر کانگریس کے اہم قائدین اور وزراء نے کپم میں کیمپ کرلیا تھا۔ سرکاری مشنری، بھاری رقومات کے استعمال کے علاوہ بوگسنگ کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آزادانہ و منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھائے۔ ریاست بھر میں مجالس مقامی کے نتائج میں وائی ایس آر کانگریس کو سبقت حاصل ہے۔ تلگودیشم کے ریاستی صدر کے اچن نائیڈو نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس کی دھاندلیوں کے باوجود تلگودیشم کے ووٹ فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔ر