چندرا بابو نائیڈو 14 دن کی عدالتی تحویل میں، راجمندری جیل منتقل

,

   

نائیڈو نے عدالت میں اپنا دفاع خود کیا، آندھرا پردیش میں دفعہ 144 کا نفاذ، جگہ جگہ احتجاج اور گرفتاریاں، گورنر سے گرفتاری کی اجازت نہیں لی گئی

حیدرآباد۔/10 ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر اور تلگودیشم کے قومی صدر این چندرا بابو نائیڈو کو اینٹی کرپشن بیورو کی خصوصی عدالت نے 22 ستمبر تک عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ آندھرا پردیش کے اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام معاملہ میں سی آئی ڈی نے چندرا بابو نائیڈو کو کل گرفتار کیا تھا اور آج انہیں اے سی بی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی تحویل میں دیئے جانے کے بعد چندرا بابو نائیڈو کو راجمندری جیل منتقل کردیا گیا۔ عدالت میں آج گرفتاری کے مسئلہ پر دن بھر مباحث ہوئے اور سہ پہر عدالت نے فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ فیصلہ کے بارے میں آندھرا پردیش میں اُلجھن برقرار تھی اور آخر کار شام میں خصوصی جج نے 22ستمبر تک عدالتی تحویل میں دینے احکاما جاری کئے۔ چندرا بابو نائیڈوکی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا اور سی آئی ڈی سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پی سدھاکر ریڈی نے دلائل پیش کئے۔ صبح 8 بجے عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا اور دوپہر ڈھائی بجے تک فریقین نے دلائل پیش کئے ۔ سی آئی ڈی ریمانڈ رپورٹ پر نائیڈو کے وکیل نے اعتراض کیا جبکہ سرکاری وکیل نے ریمانڈ رپورٹ کی تائید کی۔ خصوصی عدالت کے جج نے پولیس تحویل کی بجائے چندرا بابو نائیڈو کو عدالتی تحویل میں دینے احکام جاری کئے۔ نائیڈو کو سڑک کے راستہ راجمندری جیل منتقل کیا گیا۔ اس مقدمہ میں چندرا بابو نائیڈو کے خلاف سیکشن 409 کے استعمال پر وکیل نے اعتراض جتایا۔ انہوں نے کہا کہ مناسب ثبوت کے بغیر ہی یہ سیکشن لاگو کردیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے ریمانڈ رپورٹ کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔ اسکام میں چندرا بابو نائیڈو کے رول کے تعلق سے ثبوت پیش کرنے کی درخواست کی گئی۔ سی آئی ڈی سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سدھاکر ریڈی نے کہا کہ پولیس کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کو کل صبح 6 بجے گرفتار کیا گیا اور اندرون 24 گھنٹے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس اسکام میں تاحال 8 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ سدھارتھ لوتھرا نے کہا کہ سی آئی ڈی نے بیجا الزامات کے ذریعہ نائیڈو کے حقوق متاثر کئے ہیں۔ گورنر سے اجازت کے بغیر گرفتاری کی گئی۔ انہوں نے سی آئی ڈی عہدیداروں کی فون پر کی گئی بات چیت کی تفصیل عدالت میں پیش کرنے کی اپیل کی۔ اس مرحلہ پر سی آئی ڈی وکیل سے عدالت نے بعض سوال کئے۔ عدالت نے پوچھا کہ 2021 میں مقدمہ درج کیا گیا تو ابھی تک چندرا بابو نائیڈو کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ ایف آئی آر میں تمام نام کیوں درج نہیں کئے گئے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ریمانڈ رپورٹ میں تمام تفصیلات شامل ہیں۔ سیکشن 409 کے استعمال پر عدالت میں فریقین سے کافی دلائل پیش کئے گئے۔ مباحث کے دوران ایک گھنٹہ لنچ کا وقفہ دیا گیا۔ لنچ کے بعد ڈھائی بجے تک مباحث جاری رہے۔ آج دن بھر تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے فریقین کی جانب سے بحث کی گئی اور آخر کار عدالت نے نائیڈو کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں دے دیا۔ نائیڈو کی گرفتاری کے بعد ریاست کے اضلاع میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ریاست بھر میں دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات جاری کردیئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کو گناورم ایر پورٹ سے راجمندری منتقل کیا جائیگا اور وہاں سڑک کے راستہ جیل منتقل کیا جائیگا۔ تلگودیشم کارکنوں اور حامیوں کی ریاست میں احتجاجی ریالیوں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے جس پر پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ عوام کو جمع ہونے سے روکنے امتناعی احکام نافذ کئے گئے۔ وجئے واڑہ میں اے سی بی کورٹ کے اطراف پہنچنے والے تلگودیشم قائدین کو گرفتار کرلیا گیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ چندرا بابو نائیڈو نے عدالت میں اپنے حق میں خود بحث کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں ان کا نام ملزم نمبر 27 تھا جسے ریمانڈ رپورٹ میں ملزم نمبر 1 بنادیا گیا۔ انہوں نے عدالت میں اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی گرفتاری غیرقانونی ہے ۔ نائیڈو کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے جج سے درخواست کی کہ دلائل پیش کرنے اجازت دی جائے۔ اجازت کے بعد نائیڈو نے کہا کہ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیاسی مخاصمت کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اِسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کا فیصلہ کابینہ نے کیا تھا اور حکومت کے فیصلوں کے خلاف کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ 2015-16 کے بجٹ میں اِسکل ڈیولپمنٹ اسکیم شامل کی گئی اور ریاستی اسمبلی نے منظور کیا۔ نائیڈو نے بتایا کہ 9 ڈسمبر 2021 کے ایف آئی آر میں ان کا نام شامل نہیں تھا جبکہ سیاسی مقصد براری کے تحت ریمانڈ رپورٹ میں نام شامل کیا گیا ہے۔