23 اگست کی شام لینڈنگ متوقع،چندریان۔ 3 اب چاند سے صرف چند کیلومیٹر دور
نئی دہلی : چندریان۔3 کے لینڈر ماڈیول نے فائنل ڈی بوسٹنگ آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے۔ ہندوستانی اسپیس ایجنسی اسرو نے بتایا کہ چندریان نے ایل ایم مدار کو 25 کلو میٹر X 134کلومیٹر تک کم کر دیا ہے۔ اب ماڈیول کی داخلی جانچ ہوگی۔ اس کے بعد اسے مقررہ لینڈنگ سائٹ پر طلوع آفتاب کا انتظار کرنا پڑے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، 23 اگست کو 17:45 پر پاورڈ ڈیسنٹ شروع ہونے کی امید ہے۔بتادیں کہ ، ڈی بوسٹنگ لینڈر کو ایسے مدار میں سیٹ کرنے کا عمل ہے جس میں چاند کے مدار کا قریب ترین نقطہ 30 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ نقطہ 100 کلومیٹر ہے۔چندریان -3 کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن اتوار کی صبح 1.50 بجے مکمل ہوا۔ اس آپریشن کے بعد چاند سے لینڈر کا کم از کم فاصلہ 25 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ 134 کلومیٹر رہ گیا ہے ۔ ڈی بوسٹنگ میں اسپیس کرافٹ کی اسپیڈ کو کم کیا جاتا ہے ۔23اگست کو شام 5 بجکر 45 منٹ پر لینڈر کو کم ترین فاصلے یعنی 25 کلومیٹر کی اونچائی سے سافٹ لینڈ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔اس کے وقت میں تبدیلی کی گئی اور اب یہ 6بجکر 04 منٹ کو لینڈ کرے گا۔ ایم انادورائی کے مطابق، جو چندریان-1 اور چندریان-2 مشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں، 23 اگست کی شام چندریان-3 کی سافٹ لینڈنگ کے آخری 15 تا 20 منٹ سب سے زیادہ نازک ہیں۔ اس کے بعد لینڈر کو 25 کلومیٹر کی بلندی سے چاند کی سطح تک پہنچنے میں 15 سے 20 منٹ لگیں گے ۔اس کے بعد چھ پہیوں والا پرگیان روور وکرم لینڈر سے ریمپ کے ذریعے باہر آئے گا اور اسرو سے کمانڈ ملتے ہی چاند کی سطح پر چلے گا۔ اس دوران ہندوستان کا قومی نشان اشوک استمبھ اور اسرو کا لوگو اپنے پہیوں کے ذریعے چاند پر اپنا نشان چھوڑے گا۔