چندریان3کو وسط 2022میں چھوڑے جانے کا منصوبہ

   

حیدرآباد۔ ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی (اسرو)کے صدرنشین کے سیون نے کہا ہے کہ چندریان3کو وسط 2022میں چھوڑے جانے کا منصوبہ ہے اور خلائی ایجنسی الکٹرک پروپلشن سٹلائیٹس پر کام کررہی ہے ۔انہوں نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبہ اور فیکلٹی کے ساتھ ایرواسپیس اور ایوی نوکس کا ہندوستان میں مستقبل کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے چاند کے مشن (چندریان 3)اور باوقار گگن یان مشن پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ اگلی دہائی میں اسرو،بیشتر عصری صلاحیت کے حامل سٹلائیٹس بشمول ہیوی لفٹ خلائی گاڑی کو چھوڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
جو اپنے ساتھ 16ٹن والے سٹلائیٹس کو مدار میں لے جائے گی۔انہوں نے کہاکہ چندریان 2کی نشاندہی،اس کے نقائص کو سمجھنے اور اس کو درست کرنے کے اقدامات اگلے مشن کے لئے کئے گئے جو ہم وسط 2022میں چھوڑنے کامنصوبہ رکھتے ہیں۔گگن یان کا ڈیزائن آخری مرحلہ میں ہے اور انسان کے بغیر والے پہلے مشن کے تجربہ کی جاریہ سال کے اواخر میں تیاری کی جائے گی۔آنے والے برسوں اور مستقبل قریب میں اسرو کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہو ں نے مزید طاقت والے بوسٹر انجنس کی ضرورت پر زور دیا جو راکٹ کو لے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید طاقتور 2000نیوٹن لکویڈآکسیجن اور کیروسین انجن پر کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیمی سائکروجینک انجن کے لئے ہندوستان کا پہلا جانچ کا مرکز توقع ہے کہ جاریہ سال کے اواخر تک تیارہوجائے گا۔ہندوستان نے راکٹ گریڈ کیروسین تیار کیا ہے جس کو اسرو سین کا نام دیاگیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سیمی۔کروئیو انجنس میں ایندھن بھراجاسکے ۔