گریٹر حیدرآباد میں 125 کروڑ کی شراب فروخت، قطاروں میں نوجوان ، بچے اور خواتین شامل
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے ریاست میں اچانک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہی 11 مئی کی دوپہر 3 بجے سے شام 8 بجے تک ریاست بھر کے شراب کی دوکانات پر عوام امڈ پڑے ۔ صرف جی ایچ ایم سی کے حدود میں ایک اندازہ کے مطابق 125 کروڑ روپئے سے زیادہ کی شراب فروخت ہوئی ۔ ریاست بھر میں200 کروڑ سے زائد شراب فروخت ہوئی۔ چند لوگوں نے ایک ہفتہ ، دو ہفتے کا اسٹاک خریدا تو چند لوگوں نے لاک ڈاؤن میں امکانی توسیع کے خوف سے ایک ماہ کی شراب کا بھی اسٹاک خریدا ہے۔ اس طرح ساری ریاست میں دوپہر 3 تا شام 8 بجے شراب کی دوکانات پر عوام کی کافی بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔ عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ قطاروں میں کھڑے ہوئے لوگوں نے کورونا کے قواعد پر کوئی عمل آوری نہیں کی ۔ آج صبح 6 تا10 بجے شراب کی دوکانات کھلی تھیں ۔ کل صرف چند گھنٹوں میں شراب کا اسٹاک ختم ہوجانے سے جن لوگوں نے شراب نہیں خریدی تھی آج ان لوگوں نے شراب خریدا ہے۔ محکمہ اکسائیز کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ماہ مئی کے 11 دن میں تقریباً 710 کروڑ روپئے کی شراب فروخت ہوئی ہے جس میں 11 مئی کے 200 کروڑ روپئے بھی شامل ہیں۔ ریاست بھر میں 2 ہزار سے زائد شراب کی دوکانات ہیں جن میں حیدرآباد میں 300 شراب کی دوکانات شامل ہیں۔ کل قطاروں میں بوڑھے ، نوجوان ، بچے اور خواتین کو دیکھا گیا۔ صرف ایک دو گھنٹے میں شراب کی کئی دوکانات پر نو اسٹاک کا بورڈ آویزاں کردیا گیا۔