حیدرآباد۔4جنوری(سیاست نیوز) شہریت ترمیمی ایکٹ ‘ این آرسی اور این پی آر کے خلاف کل جماعتی جلسہ عام چنچلگوڑ ہ جونیر کالج میں 5جنوری کو منعقد کیاجانے والا تھا‘ جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی ۔ منتظمین نے جلسہ کی اجازت حاصل کرنے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔ ہفتہ کو سہ پہر تین بجے تک بھی پولیس نے واضح تیقن دیا تھا ۔ اچانک شام کے وقت دبیر پورہ پولیس اسٹیشن پر کل جماعتی وفد جناب سید عزیز پاشاہ کی قیادت میں پہنچ کر متعلقہ اے سی پی مسٹر آنند سے ملاقات کے بعد انہوں نے بتایا کہ لاء اینڈآرڈر کا مسئلہ ہونے کی وجہہ سے درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ اے سی پی سے ملاقات کے بعد جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ این آرسی ‘ سی اے اے ‘ اور این پی آر جیسے قوانین کے خلاف عوامی احتجاج جمہوری حق ہے۔ چاردیواری میں بھی جلسہ کی اجازت سے انکار پر تعجب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سارے ملک میں مظاہرے جاری ہیں مگر تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میںجمہوری حقوق کے ساتھ کھلواڑ قابل تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا ارادہ ہے مگر اس قسم کا انکار جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین‘ جمہوریت کی بقا کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں ۔ کنونیر جلسہ عثمان الہاجری کے بموجب سیاسی سازشوں کی وجہہ سے جلسہ کی منسوخی عمل میں آئی ہے اور اس میں پولیس کا جانبدارانہ رویہ بھی کارفرما ہے۔انہوں نے کہاکہ متعاقب تواریخ میں جلسہ کا بہت جلد اعلان کیاجائے گا۔