طلباء قدیم کالج کو مرمت کرنے تیار ، متعلقہ رکن اسمبلی و کارپوریٹر کی خاموشی
حیدرآباد۔1۔ستمبر (سیاست نیوز) چنچل گوڑہ جونیئر کالج کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے اور تلنگانہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے کالج کے طلبہ کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کالج انتظامیہ کو اس بات کا تیقن دیا تھا کہ وہ مخدوش عمارت کے تحفظ اور اس کی مرمت کے سلسلہ میں جلد اقدامات کریں گے لیکن گذشتہ دو ماہ کے دوران کسی بھی طرح کے کوئی اقدامات نہ کئے جانے اور ڈگری کالج کی عمارت کی تعمیر کا سلسلہ شروع کردیئے جانے کے سبب طلبہ کو مزید مسائل کا سامنا کرناپڑرہا ہے کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے نوٹس کی اجرائی کے بعد سے جونیئر کالج کے حصہ کو مقفل رکھا گیا ہے اور دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ انتظامیہ اگر اس مخدوش عمارت میں کلاسس کے انعقاد کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے طور پر خطرہ مول کر کلاسس کا انعقاد کرے۔ چنچل گوڑہ جونیئر کالج کے انتظامیہ کی جانب سے منتخبہ عوامی نمائندوں سے متعدد نمائندگیوں کے باوجود جونیئر کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیںجو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ریاستی حکومت تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کے حوالے دے رہی ہے لیکن پرانے شہر میں موجود اس قدیم جونیئر کالج جہاں زائد از1800 طلبہ زیر تعلیم ہیں ان کے مسائل کو حل کرنے کے معاملہ میں اقدامات نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے سلسلہ تعلیم کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے علاوہ ازیں طلبہ کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہاہے کہ خانگی تعلیمی اداروں کے ذمہ دار وں کے ایماء پر اس کالج میں طلبہ کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ خانگی کالجس میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں۔ سرکاری جونیئر کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے ان طلبہ کو مزید مسائل کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے فوری طور پر مخدوش عمارت کی مرمت اور طلبہ کے لئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے جانے کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔ ذرائع کے مطابق چنچل گوڑہ جونیئر کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب مختلف کمپنیو ںمیں خدمات انجام دینے والے افراد کی جانب سے اس بات کی پیشکش بھی کی گئی تھی کہ موجودہ جونیئر کالج کی مرمت و آہک پاشی کے علاوہ چھت کی صفائی و دیگر اقدامات کے لئے وہ اخراجات برداشت کرنے تیار ہیں اور اگر متعلقہ کارپوریٹر اور رکن اسمبلی کے علاوہ محکمہ کی جانب سے اجازت فراہم کی جاتی ہے تو وہ عمارت کی اندرون ایک ماہ مرمت کو یقینی بنائیں گے لیکن اس پیشکش کے باوجود تلنگانہ ریاستی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اور منتخبہ نمائندوں کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ چنچل گوڑہ جونیئر کالج کے میدان میں جہاں ڈگری کالج کی نئی عمارت کی تعمیر کی سرگرمیوں کا آغاز کیا جاچکا ہے اور عمارت کے لئے کھدوائی کا کام جاری ہے اس کے سبب طلبہ بالخصوص طالبات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جونیئر کالج کے 1800 سے زائد بچوں کے لئے احاطہ میں موجود عرصہ دراز سے بند پڑے ہوئے کمروں کی صفائی کے ذریعہ ان میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے لیکن عہدیدارو ںکی لاپرواہی اس جونیئر کالج کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے ۔م