چنچل گوڑہ جیل کی منتقلی اور عثمانیہ ہاسپٹل کی تعمیر کا عنقریب فیصلہ ہوگا

   

ملک پیٹ میں 288 ڈبل بیڈروم مکانات کے افتتاح کے بعد کے ٹی آر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 28 اگست (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی تعمیر اور چنچلگوڑہ جیل کی منتقلی کے بارے میں چیف منسٹر کے سی آر سے مشاورت کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ آج اسمبلی حلقہ ملک پیٹ پلی گڈسیل بستی میں تقریباً 25 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کردہ 228 ڈبل بیڈروم مکانات کا افتتاح کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیرداخلہ محمد محمود علی، رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی، رکن اسمبلی ملک پیٹ احمد بلعلہ کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے دورحکومت میں حیدرآباد کے دونوں شہر پرانے شہر اور نئے شہر کو مساوی طور پر ترقی دی جارہی ہے۔ پرانے شہر کی ترقی بنیادی سہولتوں کی فراہمی بالخصوص ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات، سڑکوں کی توسیع، ڈرینج نظام کو باقاعدہ بنانے، پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگم پیٹ، بنڈلہ گوڑہ اور فاروق نگر میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات میں تیزی پیدا کرتے ہوئے عوام میں تقسیم کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اس مقام پر کوئی خانگی بلڈرس کی جانب سے فلائیٹس تعمیر کئے جاتے تو اسکی قیمت 50 تا 60 لاکھ ہوتی مگر چیف منسٹر کے سی آر غریب عوام کو مفت میں ڈبل بیڈروم مکانات تقسیم کررہے ہیں۔ تعمیرات میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جارہا ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ مقامی عوامی منتخب نمائندوں کی جانب سے چنچلگوڑہ جیل کو منتقل کرنے اور اس 34 ایکر اراضی پر عوام کو کام آنے والے کوئی ترقیات کام انجام دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس کو وہ چیف منسٹر کے سی آر سے رجوع کریں گے اور ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کریں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم کے 70 سالہ دورحکومت میں صرف عثمانیہ، گاندھی اور نمس ہاسپٹلس تعمیر کئے گئے جبکہ ٹی آر ایس کے 7 سالہ دورحکومت میں گریٹر حیدرآباد میں چار بڑے ہاسپٹلس تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ گچی باؤلی میں ٹمس ہاسپٹل قائم کیا گیا۔ صنعت نگر، الوال، گڈی انارم میں بھی نمس ہاسپٹلس کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آئندہ 2 یا 3 سال میں یہ ہاسپٹلس عوام کو دستیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت مخدوش ہوچکی ہے۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ N