اکبر اویسی کے ہاتھوں ترقیاتی کاموں کا افتتاح، فلیکسی و بیانرس پر ایم بی ٹی کا احتجاج
حیدرآباد : /9 جنوری (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ چنچل گوڑہ میں آج اُس وقت کشیدگی پھیل گئی جب مجلس بچاؤ تحریک کے کارکنوں اور مجلسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا ۔ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں فلیکس اور بیانرس کی تنصیب کے مسئلہ پر ایم بی ٹی قائدین نے آج احتجاج کرتے ہوئے مجلسی لیڈرس کے قافلہ کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق ملک پیٹ اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کیلئے مجلس کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی اپنے حامیوں کے ساتھ ریالی کی شکل میں گھوم رہے تھے کہ جس پر تحریک کے قائدین نے اعتراض کرتے ہوئے قافلہ کو روکنے کی کوشش کی ۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکن کثیرتعداد میں جمع ہونے کے نتیجہ میں علاقہ میں بھاری پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا اور علاقہ میں پولیس گشت میں شدت پیدا کردی گئی ۔دبیر پورہ فلائی اوورکے قریب بعض ایم بی ٹی اور ایم آئی ایم کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے بعد پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں منتشر کردیا ۔ مجلس بچاؤ تحریک کے قائدین نے پولیس پر یہ الزام عائد کیا کہ کورونا وائرس سے متعلق جی او جس میں ریالی اور جلسہ عام پر امتناع عائد ہے اس کے باوجود بھی مجلسی قائدین کو ریالی کی اجازت دی گئی اور جی ایچ ایم سی حکام نے بھی فلیکس بیانرس کی تنصیب کی اجازت دی ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اس سلسلہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خان فرحت نے کہا کہ ریاست میں کوویڈ پروٹوکول کا قانون نافذ ہے اور اس کے باوجود بھی پولیس نے مجلسی قائدین کو افتتاحی کاموں کے آغاز کے نام پر ریالی کی اجازت دی ۔ انہوں نے ساؤتھ زون پولیس پر یہ الزام عائد کیا کہ پولیس جانبدارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اور غریب و مظلوم عوام کے خلاف کام کررہی ہے ۔ ب