وارانسی: اتر پردیش میں محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم گیانواپی مسجد کا سروے کر رہی ہے۔ کل یعنی پیر کو سروے کا چوتھا دن تھا۔ یہ سروے صبح 10.30 بجے سے شروع ہوا۔ ہندو فریق کے وکیل سدھیر ترپاٹھی نے بتایا کہ سروے کا کام پیر کو بھی جاری ہے، انجمن انتظامات کمیٹی بھی سروے میں تعاون کر رہی ہے۔اسی وقت ہندو فریق کے ایک اور وکیل نندن چترویدی نے کہا کہ یہ سروے ایک منظم اور سائنسی طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ اس میں کچھ وقت لگے گا اور سروے مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔اس سے قبل جمعہ کو مسجد کے اندر موجود تین گنبدوں کا سروے کیا گیا تھا،اتوار کو اے این آئی سے بات کرتے ہوئے انجمن انتظامیہ مسجد کے جوائنٹ سکریٹری احمد یاسین نے کہا کہ ہندو فریق کے لوگ جھوٹ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ مندر کے اندر ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں پائی گئی ہیں۔ سروے ہونے سے پہلے ہی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔