نئی دہلی: ملک کی 14 ریاستیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں قبل از وقت وارننگ سسٹم موجود ہے اور یہ عوام کے لیے قابل رسائی اور موثر ہے ۔ اس میں آسام، اوڈیشہ، سکم، اتر پردیش، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ اور کیرالہ جیسی ریاستیں سب سے آگے ہیں۔ یہ انکشاف کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر (سی ای ای ڈبلیو) کے ذریعہ جمعرات کو جاری کردہ ایک نئی تحقیق ‘اسٹریتھننگ انڈیاز ڈیزاسٹر پریپیرڈنیس ود ٹکنالوجی: اے کیس فار افیکٹیو ارلی وارننگ سسٹمس’ میں ہوا ہے ۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں جس طرح سے سیلاب اور طوفان جیسی قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے ، قبل از وقت وارننگ سسٹم ان آفات سے نمٹنے کے لیے لچک پیدا کرنے کا ایک بہت اہم حصہ ہے ۔ یہ ابتدائی انتباہات تباہی کے خطرے میں کمی کے مختلف اقدامات کا بھی حصہ ہیں، جو کہ ہندوستان کی جی20 صدارت میں بحث کا ایک بڑا موضوع ہے ۔اس تحقیق میں سیلاب اور طوفانوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ تشخیص میں انتباہی نظام کی دستیابی (ابتدائی وارننگ اسٹیشنوں کی موجودگی)، رسائی (فون کے ذریعے لوگوں کی معلومات تک رسائی، وغیرہ) اور تاثیر (گورننس اور مالیاتی انفراسٹرکچر کی موجودگی) شامل ہیں۔ سی ای ای ڈبلیو کے تجزیہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی میں تیزی آنے کے ساتھ ریاستوں کو دستیاب سیلاب سے پہلے وارننگ سسٹم میں تیزی سے اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔