چوری چھپے دوسری شادی کے بعد بیوی کا قتل، ملزم شوہر گرفتار، ڈی سی پی ایل بی نگر سنپریت سنگھ کی پریس کانفرنس

   

حیدرآباد۔ یکم نومبر، ( سیاست نیوز) چوری چھپے شادی کرنا ایک خاتون کی ہلاکت کا سبب بن گیا جہاں دوسری بیوی کا قتل کرنے والے شوہر کو پولیس ونستھلی پورم نے گرفتار کرلیا۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایل بی نگر زون مسٹر سنپریت سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 16 اکٹوبر کو قتل کیس میں پولیس نے 28 سالہ تلک چند لعل عرف دلیپ کو گرفتار کرلیا ہے جو ونستھلی پورم کے علاقہ کا ساکن پیشہ سے میستری بتایا گیا ہے۔ اس نے اس کی دوسری بیوی 22 سالہ سیما دھاولے ساکن شکتی نگر ونستھلی پورم متوطن مدھیہ پردیش کو 16اکٹوبر کو ایک زیر تعمیر عمارت کی بلندی سے ڈھکیل کر قتل کردیا تھا۔ سیما دھاولے اور دلیپ کی شادی چند ہفتہ قبل ہوئی تھی۔ لڑکی سے دلیپ کی پہچان دو ماہ قبل فون کے ذریعہ ہوئی ۔ دلیپ جو مہاراشٹرا کے علاقہ گونڈیا کا متوطن ہے پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی ایک اولاد بھی ہے۔ سیما دھاولے سے فون پر بات چیت بڑھنے لگی اور اس نے لڑکی کو فرار کروایا۔ اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی 5 اکٹوبر کو مقامی پولیس اسٹیشن میں کروائی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق سیما دھاولے کو حیدرآباد منتقل کرنے کے بعد اس نے شادی کرلی اور کام کرنے کے مقام پر سیما کا بیوی کی حیثیت سے تعارف کروایا۔ تاہم سیمادھاولے اس بات سے مطمئن نہیں تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ دلیپ سیما کو اس کے آبائی مقام لے جائے اور افراد خاندان سے تعارف کروائے اور سب کے سامنے باضابطہ شادی کا اعلان کرے۔ تاہم دلیپ ٹالنے لگا اور سیما کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگا۔ سیما ضد پر آگئی تھی۔ دلیپ چونکہ پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ ہے وہ سیما کو اپنے گھر لے جانا نہیں چاہتا تھا۔ پولیس کے مطابق دلیپ نے سیما سے صرف جنسی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ہوس کے تحت شادی کی تھی اور اس کی خواہش پوری ہونے کے بعد وہ لڑکی سے پیچھا چھڑانے کی کوشش میں تھا کہ اسی دوران سیما کی ضد سے وہ تنگ آگیا اور اس نے سازش تیار کرتے ہوئے منصوبہ کے مطابق سیما کو ایک زیر تعمیر عمارت کی چوتھی منزل پر لے گیا جہاں مار پیٹ کے بعد اس نے سیما کو ڈھکیل دیا۔ تاہم خاتون پہلی منزل پر گرپڑی جس کو ساتھی مزدوروں نے ہاسپٹل منتقل کیا جہاں وہ فوت ہوگئی۔ پولیس نے جو دلیپ کوگرفتار کرلیا ۔پریس کانفرنس کے دوران اے سی پی جے رام ، انسپکٹر وینکٹ اور سب انسپکٹر پرویز محی الدین و دیگر موجود تھے۔