گرمی کی شدت کو کم کرنے ادویات کا استعمال ، متعدد تحقیق میں انکشاف
حیدرآباد۔9جون(سیاست نیوز) شہر میں شادیوں کی تقاریب کے پیش نظر مرغی کے گوشت کی مانگ میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرغ کی فرضی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتو ںمیں اضافہ کیا گیا ہے! جی نہیں ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں مرغیوں کی قلت کی اطلاعات درست ہیں لیکن یہ قلت کی وجوہات کا پتہ چلنے کے بعد کوئی چکن کو ہاتھ لگانا بھی گوارہ نہیں کرے گا کیونکہ دونوں ریاستوں کے علاوہ کرناٹک میں گرمی کی شدت کے سبب مختلف عوارض کا شکار ہوتے ہوئے مرغیاں فوت ہوچکی ہیں اور مرغیوں کے فوت ہونے کے سبب پیداوار میں کمی لائی گئی تھی اور اب جبکہ شادیوں کا موسم شروع ہونے جا رہا ہے ایسے میں نئی پیداوار کی کوشش کے بعد بھی مرغیوں کے فوت ہونے کی اطلاعات کے سبب صورتحال ناقابل تصور ہوتی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ نئی پیداوار پر اب بھی مرغ کے کسان توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ گرمی کے سبب مرغیوں کو دی جانے والی ادویات انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے اور جو لوگ مختلف عوارض کے لئے ادویات کا استعمال کرتے ہیں وہ اگر چکن کا استعمال کرتے ہیں تو ادویات ان پر اثر نہیں کرتیں بلکہ ان کی صحت میں بگاڑ کا سبب بننے لگتی ہے۔ چکن کے استعمال سے ہوئے والے مضر اثرات کے متعلق متعدد تحقیق سامنے آچکے ہیں اور ان تحقیق کا جائزہ لینے کے بعد اب ڈاکٹرس بھی بازار میں دستیاب ہونے والے برائیلر چکن کے استعمال کو فوری ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن چکن کی مانگ میں ہونے والے اضافہ اور سپلائی میں کمی کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ریاست میں مرغ کی مانگ میں اضافہ کے سبب قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد میں مرغیوں کی بڑی تعداد فوت ہونے کے سبب جونقصان کی صورتحال پیدا ہورہی ہے اس پر قابو پانے کے لئے قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہاہے۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ موسم کی تبدیلی کے دوران بیمار مرغ کے استعمال سے انسانی صحت پر اس کے ہونے والے مضر اثرات کو روکنا دشوار ہونے لگتا ہے جس کے سبب مختلف وبائی امراض پھیلنے لگتے ہیں۔ مرغ کے ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں موسم گرما کے دوران چکن کی فروخت میں ریکارڈ کی جانے والی کمی اور چکن کے فوت ہونے کے واقعات کے پیش نظر کسانوں نے بھی پیداوار پر کنٹرول کیا ہوا تھا اور اس کے علاوہ پڑوسی ریاستوں سے جو چکن ریاست تلنگانہ کو پہنچتا ہے اسے بھی ریاست میں داخل ہونے سے روکا جا رہاہے جس کے سبب قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور طلب اور سپلائی میں فرق بھی پیدا ہونے لگا ہے۔ مرغ کو جلد بڑا کرنے کے لئے جو ادویات غذاء میں دی جا رہی ہیں ان میں سب سے زیادہ آئینٹی بائیوٹیک ادویات ہیں اورمرغ کے گوشت میں ان ادویات کے اثر کے سبب انسان پر ادویات اثرانداز نہیں ہورہی ہیں علاوہ ازیں دیگر ادویات بھی اثر نہ کرنے کے سبب بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوپا رہاہے ۔ماہر اطباء نے تقاریب کے موسم میں مرغ سے اجتناب کرنے اور خود کو صحت مند رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ مرغ کے استعمال سے انسانی صحت متاثر ہورہی ہے اور اس بات کے انکشاف اور کمزوری کے سبب مرغیوں کی اموات کے باوجود مرغ کھانا درست نہیں ہے اسی لئے ایسے موسم میں مرغ کے گوشت کے استعمال کو ترک کرنا بہتر ہے۔شہر میں مرغی کے گوشت کی قیمت 135 روپئے فی کیلو پہنچ گئی ہے جبکہ گذشتہ برسوں کے دوران ماہ مئی ‘ جون اور جولائی کے دوران قیمتیں 70تا75روپئے فی کیلو ہوا کرتی تھیں۔
