چکن اور گوشت کے استعمال سے وائرس کے کوئی امکانات نہیں

   

غذا کے باعث وائرس سے متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ، ایمس کی وضاحت
حیدرآباد۔3جون(سیاست نیوز)آل انڈیا انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی جانب سے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ چکن کے استعمال سے کورونا وائرس نہیں ہوتا اور نہ ہی گوشت کے استعمال سے کورونا وائرس ہونے کے کوئی شواہد پائے گئے ہیں۔ ایمس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا جاچکا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے متاثرہ شخص بھی چکن یا گوشت کی صفائی کے عمل کا حصہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات گوشت میں سرائیت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ گوشت کا استعمال پکانے کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔کورونا وائرس کے پھیلنے کی بنیادی وجہ ایک دوسرے سے قریبی رابطہ ہے اور اس رابطہ کے بعد اگر کوئی اپنی ناک‘ منہ اور آنکھ کو ہاتھ لگاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں کورونا وائرس منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ہندستان کے سرکردہ دواخانہ ایمس کی جانب سے واضح کیا جاچکا ہے کہ اب تک جو کورونا وائرس کی وباء پائی گئی ہے وہ چکن یا کسی اور جانور میں منتقل ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ اگر کوئی گوشت کے استعمال سے قبل اسے اچھی طرح سے دھو لیتا ہے اور اس کے بعد اسے بہتر انداز میں پکایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس میں کوئی بھی طرح کے جراثیم باقی نہیں رہتے۔ایمس نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ تاحال کوئی بھی غذاء کے ذریعہ کورونا وائرس کی منتقلی کا ایک بھی مریض نہیں پایا گیا ہے اسی لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ غذاء کے استعمال سے کورونا وائرس پھیلنے کی گنجائش موجود ہے۔بہتر انداز میں صفائی اور دھونے کے بعد پکائی جانے والی غذاء محفوظ ہوتی ہے ۔کم کی گرمی سے غذاء کے ساتھ جسم میں سرائیت کرنے والے بیکٹیریا پوری طرح سے فوت ہوجاتے ہیں اور کورونا وائرس کے شکم میں داخل ہونے کے بھی اب تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں بلکہ کورونا وائرس جو کہ SARSکی طرح کا مرض ہے وہ انسان کے پھیپڑوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے اور پھیپڑوں میں سرائیت شکم کے ذریعہ ممکن نہیں ہے اسی لئے ماہرین کی جانب سے جن راستوں کے ذریعہ پھیپڑوں میں وائرس کی سرائیت ممکن ہے ان کی حفاظت کی تاکید کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ ہاتھوں کی صفائی اور منہ ‘ ناک اور آنکھ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ کورونا وائرس جیسی لاعلاج بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔