چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرا میں 258 نکسلائیٹس کی خودسپردگی

   

دو دنوں میں بڑی تبدیلی،نکسلزم اپنی آخری سانس لے رہا ہے : امیت شاہ

نئی دہلی۔ 17 اکٹوبر (ایجنسیز) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ پچھلے دو دن میں 258 سخت گیر ماؤنوازوں نے تشدد کے راستے کو ترک کر دیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیر موصوف نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج چھتیس گڑھ میں 170 ماؤنوازوںنے خود سپردگی کی جبکہ 27 ماؤنوازوں نے کل خود سپردگی کی تھی۔ شاہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مہاراشٹرا میں جملہ 61 ماؤنواز، مرکزی دھارے میں لوٹ آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال سے جب سے بی جے پی نے چھتیس گڑھ میں اقتدار سنبھالا ہے ایک ہزار سے زیادہ ماؤنوازوں نے خود سپردگی کی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں تقریباً ایک ہزار 800 ماؤنوازوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 450 سے زیادہ ہلاک کیے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے ملک کیقانون میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ماؤنوازوں کے تشدد ترک کرنے کے اقدام کی ستائش کی ہے۔ نکسل ازم کے خلاف لڑائی میں اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ایک وقت تھا جب چھتیس گڑھ کے ابوجھ ماڑ اورشمالی بَستر، دہشت کا گڑھ ہوا کرتے تھے لیکن اب اِنھیں نکسلی دہشت سے پاک قرار دے دیا گیا ہے۔ شاہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی خود سپردگی کرنا چاہتے ہیں ان کا خیر مقدم ہے اور جو اپنے ہاتھوں میں بندوقیں تھامے رہناچاہتے ہیں انہیں بھارتی مسلح افواج کے قہر کو جھیلنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نکسلزم اپنی آخری سانس لے رہا ہے اور یہ اگلے سال مارچ تک حکومت کی جانب سے نکسلزم کے خاتمے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔وزیر داخلہ نے اْن لوگوںسے ہتھیار ڈالنے اور مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی اپیل کی، جو ابھی تک نکسلزم کے راستے پر چل رہے ہیں۔