٭ کورونا سے متاثر ماؤسٹ علاج کیلئے رجوع
٭ 75 سے زائد ماؤسٹ امکانی متاثرین
حیدرآباد : تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ماؤسٹوں کے کورونا کا شکار ہونے کی اطلاعات کے مطابق پولیس نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرحدی اضلاع میں کورونا کا شکار کئی ماؤسٹ اپنی شناخت کو چھپاتے ہوئے سرکاری دواخانوں میں اپنا علاج کرارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کتہ گوڑم ضلع میں ایک ماؤسٹ قائد کو خانگی ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا جہاں کورونا سے موت کے بعد اِس بات کا انکشاف ہوا کہ ماؤسٹ اپنے علاج کے لئے جنگلوں سے شہری علاقے منتقل ہورہے ہیں۔ پولیس نے چھتیس گڑھ سے متصل سرحدی اضلاع میں چوکسی اختیار کرلی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کورونا علاج کیلئے قبائیلی علاقوں میں دستیاب سہولتیں ناکافی ہیں لہذا ماؤسٹ سرکاری اور خانگی دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں۔ کئی دواخانوں کے حکام نے پولیس کو ماؤسٹوں کی موجودگی سے واقف کرایا۔ پولیس سرحدی علاقوں کے سرکاری اور خانگی دواخانوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اطلاعات کے مطابق 75 سے زائد ماؤسٹ کورونا متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ کتہ گوڑم کے خانگی ہاسپٹل میں ایک کی موت ہوئی۔ پولیس نے کہا ہے کہ مقامی قبائلیوں کی مدد سے ماؤسٹ اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے علاج کے لئے رجوع ہورہے ہیں۔ اِسی دوران پولیس نے ماؤسٹوں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ سرینڈر ہوتے ہیں تو اُنھیں حکومت کی جانب سے علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔