رائے پور۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ کے ضلع راجنند گاؤں میں پولیس کے ساتھ ہفتہ کو ایک گھمسان انکاؤنٹر میں کم سے کم 4 خطرناک نکسلائیٹس مارے گئے جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ ان تمام چاروں مہلوکین کے سر پر انعام کا اعلان کیا جاچکا تھا۔ ایک اعلیٰ افسر نے ان ہلاکتوں میں پولیس کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھتیس گڑھ ۔ مہاراشٹرا سرحد پر سرگرم ’انتہائی اہم اہداف‘ کا خاتمہ کرپانا یقینا ایک اہم کامیابی ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس (درگ رینج) وویکانند سنہا نے کہا کہ یہ واقعہ جمعہ کو رات دیر گئے رائے پور سے 150 کیلومیٹر دور مان پور پولیس اسٹیشن کے تحت موضع پردھونی میں پیش آیا۔ راجنندا گاؤں ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیتندر شکلا نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’ہمیں جمعہ کی شام 7 بجے باوثوق ذرائع سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ مان پور پولیس اسٹیشن سے تقریباً 6 کیلومیٹر دور موضع پردھونی میں 7 تا 8 مسلح انتہا پسندوں کا ایک گروپ ایک خیمہ میں قیام کیا ہوا ہے اور غذا کی تیاری کیلئے پکوان جاری ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر 28 اہلکاروں پر مشتمل ایک پولیس ٹیم مدن واڑہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شیام کمار شرما اور کہوکہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او پراوین دیویدی کی قیادت میں تلاشی مہم شروع کی گئی اور 9:30 بجے شب سکیورٹی اہلکاروں نے پرادھونی گاؤں کے سارے علاقہ کی ناکہ بندی کردی۔ اس دوران نکسلائیٹس نے اندھادھند فائرنگ شروع کی اور پولیس نے جوابی کارروائی کی۔فائرنگ کا سلسلہ 20 منٹ جاری رہا ۔ کئی انتہا پسند فرار ہوگئے ۔ بعدازاں انکاؤنٹر کے مقام سے بشمول دو خواتین 4 نعشیں اور اسلحہ برآمد ہوئے۔