چھتیس گڑھ میں159 تبلیغیوں کے منجملہ 108 ہندو

,

   

رائے پور ۔ /12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ میں سرکاری عہدیداروں پر تبلیغی جماعت کا بھوت اس قدر حاوی ہوا ہے کہ وہ ہر کسی کو تبلیغی ثابت کرکے سزاء دے رہے ہیں ۔ دہلی کے مرکز سے چھتیس گڑھ واپس آنے والے شہریوں کی فہرست تیار کی گئی ۔ 159 افراد کی فہرست ہائیکورٹ میں داخل کی گئی تھی ۔ یہ تمام لوگ دہلی میں نظام الدین مرکز میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے بعد چھتیس گڑھ واپس ہوئے تھے لیکن پتہ چلا کہ ہائیکورٹ میں داخل کردہ 159 افراد کی فہرست میں 108 افراد غیرمسلم ہیں ۔ ہائیکورٹ نے 159 افراد کی فہرست کو آگے بڑھاتے ہوئے حکم دیا کہ ان کی تلاش شروع کی جائے ۔ ہائیکورٹ کی ہدایت پر ریاستی حکومت نے اس لسٹ سے لاپتہ 52 افراد کا پتہ چلالیا ۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فہرست میں جن لوگوں کے نام شامل ہیں ان میں 108 ہندو ہیں ۔ اخباری نمائندوں سے جب اس بات کی تہہ تک پہونچ کر فہرست میں شامل چند افراد سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ 108 ہندو دہلی گئے ہوئے تھے لیکن انہیں دہلی سے واپسی پر نظام الدین مرکز تبلیغی جماعت سے واپس ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ماخوذ کیا گیا ۔ درخواست گزار نے ہائیکورٹ کو یہ بھی بتایا تھا کہ دہلی کے نظام الدین مرکز سے واپس ہونے والے 159 افراد کے منجملہ 107 افر اد کا کورونا وائرس ٹسٹ کروایا گیا ۔ اب تک صرف 87 رپورٹس ہی موصول ہوئے ہیں جبکہ دیگر 52 افراد لاپتہ ہیں ۔ حکومت نے انہیں گرفتار کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔ اس پر ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ لسٹ میں شامل 52 افراد کی گمشدگی کا پتہ چلائیں ۔ ریاستی حکومت کو 159 افراد کی فہرست فراہم کی گئی تو اس میں 108 غیر مسلموں کے نام شامل تھے ۔ اس فہرست میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ میں ایک برہمن ہندو ہوں ۔ آخر میں تبلیغی اجتماع میں کیوں شرکت کروں گا ۔ میں مارچ میں دہلی خانگی کام سے گیا تھا ۔ نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے بلاس پور کیلئے بذریعہ ٹرین یہاں پہونچا ۔