چھوٹی کمپنیوں پر مکمل اجرت کیلئے زبردستی نہ کی جائے

   

آمدنی کے بغیر بعض کمپنیاں اُجرتیں نہیں دے سکتیں : سپریم کورٹ
نئی دہلی 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ان کمپنیوں اور آْرین کے خلاف آئندہ ہفتہ تک زور زبردستی پر مبنی کوئی کارروائی نہ کی جائے جو کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب اپنے ملازمین کو پوری اُجرتیں ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ جسٹس ایل این راؤ، جسٹس ایس کے کول اور جسٹس بی آر گوائی پر مشتمل بنچ نے اس مسئلہ پر مختلف درخواست کی ویڈیو کانفرنس پر سماعت کرتے ہوئے کہاکہ بعض ایسی چھوٹی کمپنیاں بھی ہوسکتی ہیں جنھیں آمدنی نہیں ہوئی ہے چنانچہ وہ اُجرتیں ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ عدالت عظمیٰ کی بنچ نے اس تاثر کا اظہار بھی کیاکہ ورکروں کو مکمل اُجرتیں دینے کی ہدایت سے متعلق مرکزی وزارت اُمور داخلہ کی طرف سے 29 مارچ کو جاری کردہ گشتی نوٹ محض جزوعی نوعیت کا ہے نیز اس سے متعلق ایک وسیع تر سوال بھی ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے کہاکہ بعض ایسی چھوٹی صنعتیں بھی ہیں جو لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئی ہیں۔ اکثر چھوٹی کمپنیاں کسی آمدنی کے بغیر زیادہ سے زیادہ 15 دن چل سکتی ہیں اور اس سے زیادہ عرصہ نہیں چل سکتیں تو پھر وہ اپنے ورکروں کو تنخواہیں کس طرح ادا کریں گی؟