چھوٹے تاجروں کو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے قرض کی فراہمی ضروری

   

فٹ پاتھ اور ٹھیلہ بنڈی کے تاجرین کو بڑتی راحت ملے گی، حکومت کے فراخدلانہ اقدامات ناگزیر
حیدرآباد۔ ریاستی حکومت چھوٹے تاجرین بالخصوص اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تاجرین کو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے قرض کی فراہمی کے ذریعہ انہیں کاروبار میں ہونے والے نقصانات کی پابجائی میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اور اگر ریاستی حکومت کی جانب سے فٹ پاتھ تاجرین اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کیلئے فوری طور پر ایسی کوئی اسکیم شروع کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں چھوٹے تاجرین کو بڑی راحت حاصل ہوگی اور شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کی معیشت میں بہتری پیدا ہونے کے قوی امکانات ظاہر ہونے لگیں گے۔شہر حیدرآباد میں چھوٹے تاجرین جو فٹ پاتھ اور ٹھیلہ بنڈیوں پر کاروبار کیا کرتے ہیں وہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کیلئے سود پر قرض حاصل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کیونکہ طویل مدتی لاک ڈاؤن کے بعد اب بازار میں کچھ چہل پہل میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے سبب تاجرین سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں بڑی حد تک ناکام ثابت ہورہی ہیں کیونکہ ان کی محنت اور آمدنی سود کی ادائیگی میں جانے لگی ہے جس کی وجہ سے خانگی سودی کاروبار کرنے والوں کو فائدہ حاصل ہورہا ہے اور محنت کش طبقہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے اگر ھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ تاجرین کو چھوٹے قرض فراہم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں اور بینکوں سے مربوط یا راست قرضہ جات کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان کی محنت سے حاصل ہونے والی کمائی ان کی اپنی رہے گی اور وہ مختصر مدت کے دوران حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے قرض کی ادائیگی کے بھی متحمل بن جائیں گے۔لاک ڈاؤن کے بعد سے ریاست تلنگانہ کے شہری علاقوں میں صورتحال انتہائی ابتر ریکارڈ کی جا رہی تھی اور چھوٹے تاجرین سخت مشکلات میں مبتلاء تھے لیکن اب جبکہ بازاروں میں رونق بحال ہونے لگی ہے تو ایسے میں ریاستی حکومت اگر چھوٹے تاجرین کی مدد کرتی ہے تو وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس سلسلہ میں بہت جلد ہاکرس کی جانب سے ایک یادداشت روانہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں نمائندگی کی جائے گی تاکہ ہزاروں چھوٹے تاجرین کو فائدہ پہنچے۔