چھینک اور کھانسی عام الرجی ، کورونا سے کوئی تعلق نہیں

   

تنفس اور الرجی کے مریضوں کو گھر پر احتیاط برتنے کا مشورہ ، ڈاکٹر سبھاکر کندی
حیدرآباد۔ گھر میں رہتے ہوئے اگر آپ کوچھینکیں آتی ہیں یا خراش محسوس ہورہی ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہیں بلکہ یہ کسی الرجی کے سبب بھی ممکن ہے اور اس کا بہ آسانی علاج کیا جاسکتا ہے ۔ ملک بھرکے علاوہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ حالات کے دوران عوام میں کورونا وائرس کے علامات کے سبب خوف کی صورتحال پائی جانے لگی ہے اور اگر کوئی چھینکیں اور کھانسے تو قریب میں موجود افراد خوفزدہ ہونے لگے ہیں جبکہ ایساکسی الرجی کے سبب بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ اسی صورت میں جب آپ گھر میں رہیں۔اب جبکہ دنیا بھر میں 4 جولائی تک ہفتہ الرجی منایاجار ہاہے اس سلسلہ میں ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ ہر چھینک کو کورونا وائرس سے مربوط کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دھول ‘ مٹی اور دیگراشیاء سے ہونے والی الرجی کے سبب بھی چھینک اور کھانسی ہوسکتی ہے۔سینیئر پلمانولوجسٹ ڈاکٹر سبھاکر کندی نے بتایاکہ گھریلو آلودگی سے دنیا بھر میں 4.3ملین لوگوں کی اموات واقع ہوتی ہیں جو کہ گھر میں رہنے کے باوجود تنفس کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ تنفس کے مسائل کو کورونا وائرس سے مربوط کردینا بھی درست نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر میں کئی مریض ایسے ہیں جن کو تنفس کے مسائل ہوتے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے لیکن موجود کورونا وائرس کی وباء کے دوران تنفس کے مسائل کے ساتھ ہی اسے کورونا وائرس سے مربوط کرتے ہوئے مریضوں کو علاج و معالجہ کی فراہمی میں تاخیر ہونے لگی ہے جس کے سبب تنفس کے امراض کے سبب اموات واقع ہونے لگی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنفس اور الرجی کے مریضوں کو گھر میں رہتے ہوئے احتیاط کی ضرورت ہے اور انہیں اپنے علاج و معالجہ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔