سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود تعطل برقرار۔ درخواستیں تک طلب نہیں کی گئیں
حیدرآباد۔18۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست میں گذشتہ 6برسوں میں 20 لاکھ سے زائد راشن کارڈ منسوخ کئے گئے ہیں لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک نئے راشن کارڈ جاری کرنے حکومت سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جبکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں حکومت کو واضح ہدایا ت بھی جاری کی ہیں ۔ اس کے باوجود تلنگانہ میں نئے راشن کارڈ کی اجرائی کے اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ حکومت سے منسوخ 20 لاکھ راشن کارڈس میں جن لوگوں نے یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ ان کے راشن کارڈ غلط منسوخ کئے گئے ہیں ان کے نئے راشن کارڈ کی اجرائی کے نام پر محض 2لاکھ راشن کارڈ جاری کئے گئے اور اس کے بعد سے اب تک راشن کارڈس کی اجرائی کیلئے درخواست وصولی کا عمل تک شروع نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں میں سیول سپلائز عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ حکومت نے جو راشن کارڈ جاری کئے ہیں وہ نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کے مطابق ہیں اور نئی مردم شماری کے بعد ہی نئے راشن کارڈس کی اجرائی ممکن ہوسکتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ راشن کارڈ کی اجرائی میں محکمہ سیول سپلائز سے استفسارات کے جواب دینے کی بجائے محکمہ یہ باور کروانے کی کوشش کر رہاہے کہ ریاست میں جتنے راشن کارڈ جاری کئے جانے چاہئے اس سے زیادہ راشن کارڈس جاری کئے جاچکے ہیں اور حکومت جب تک نئے راشن کارڈس کی اجرائی کے سلسلہ میں احکامات جاری نہیں کرتی اس وقت تک نئے راشن کارڈس کی اجرائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔نیشنل فوڈ سیکیوریٹی ایکٹ کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں راشن کارڈس کی اجرائی میں موجود قوانین کے مطابق موجود راشن کارڈ کے متعلق کہا جار ہاہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب مردم شماری کا عمل مکمل ہوجائے لیکن اپریل میں سپریم کورٹ نے ای۔شرم کارڈ رکھنے والوں کو فوری راشن کارڈ جاری کرنے احکام جاری کئے اورکہا کہ جن افراد نے پورٹل پر درخواست داخل کی ہے ان تمام کو فوری راشن کارڈ جاری کئے جائیں اور مردم شماری کا انتظار نہ کیا جائے۔