الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کا ادعا ، انتخابی بے قاعدگیوں کے تدارک کو یقینی بنانے کی کوشش
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) شہر حیدرآبادکے پڑوسی اضلاع میں ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے چہرہ شناسی ایپ کا استعمال کرتے ہوئے بوگس رائے دہی اور تلبیس شخصی کے ذریعہ ووٹ کے استعمال کو روکنے کی کوشش 80 فیصد تک کامیاب ہوئی ہے اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سافٹ وئیر اور ایپلیکیشن کا بہ آسانی استعمال یقینی بنایا گیا ہے اور اسے صرف موبائیل فون کے ذریعہ بھی کارکرد بنایاجاسکتا ہے۔ انتخابات کے دوران بوگس رائے دہی اور تلبیس شخصی کے ذریعہ ووٹ کا استعمال عام بات ہوتی جا رہی تھی اسی لئے ریاستی الیکشن کمیشن نے چہرہ شناسی کرنے والے ایپ کی مدد سے ایک سے زائد مرتبہ ووٹ ڈالنے پہنچنے کے علاوہ دوسروں کے ووٹ ڈالنے والوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ۔ چہرہ شناسی کے ذریعہ انتخابی دھاندلیوں کو روکنے کیلئے کی جانے والی کوشش میں 80 فیصد کامیابی کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے مرکزی الیکشن کمیشن کو رپورٹ روانہ کرتے ہوئے آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں اس ایپلیکیشن کے استعمال کے متعلق غور کرنے کی درخواست کی جائے گی تاکہ انتخابی دھاندلیوں کے تدارک کو یقینی بنایا جائے۔ ریاست کے بلدی انتخابات میں میڑچل‘کومپلی اور دیگر بلدیات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تجرباتی اساس پر اس ایپ کا استعمال کیا گیا اور کہاجا رہاہے کہ اس ایپ کے کامیاب استعمال سے انتخابی عملہ میں بھی خوشی کی لہر پائی جاتی ہے کیونکہ تلبیس شخصی کے ذریعہ ووٹ کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی صور ت میں ہنگامہ آرائی ہوا کرتی تھی لیکن اب اس ایپ سے اگر تصویر مماثلت نہیں رکھتی ہے تو اس کے جو نتائج برآمد ہوں گے ان سے رائے دہندوں کو واقف کروادیا جائے گا۔ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے رائے دہی مرکز پر پہنچنے والے رائے دہندوں کی تصویر کشی اور تصویر میں مماثلت کے بعد ہی انہیں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے اور جن رائے دہندوں کے پاس ووٹر آئی ڈی کارڈ اور دیگر شناختی کارڈس موجود ہیں ان کے متعلق تفصیلات سے مماثلت کی جانچ کی جا رہی ہے اور جانچ میں کامیابی کی صورت میں ہی رائے دہی کا حق فراہم کیا جا رہاہے۔ تلنگانہ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدی انتخابات میں تجرباتی طور پر استعمال کئے جانے والے اس ایپ اور سافٹ وئیرکا آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کے دوران بھی استعمال کئے جانے کے مکمل امکانات ہیں۔ریاستی الیکشن کمیشن نے اس سلسلہ میں وضاحت کردی ہے کہ رائے دہی کے دن جو تصاویر رائے دہندوں کی لی جائیں گی وہ فوری ڈیلیٹ کردی جائیں گی اسی لئے اس سافٹ وئیر کے ذریعہ کسی کی شخصی معلومات کے انکشاف کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔