چیئرمین دھنکھرنے تحریک عدم اعتماد لانے پر مجبور کیا:اپوزیشن

,

   

راجیہ سبھا میں تعطل برقرار، سونیا گاندھی پر امریکی سرمایہ کار سے تعلقات کے الزام پر ہنگامہ

نئی دہلی: اپوزیشن انڈیا اتحاد نے کہا ہیکہ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھر کا رویہ ایوان میں حزب اختلاف کے ارکان کیلئے توہین آمیز رہا ہے اور حکومت کے ایجنڈے کے مطابق کام کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف مکمل طور پر متعصبانہ رہا ہے ، اس لیے اتحاد کے رہنما ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انڈیا الائنس کے قائدین نے آج یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چیئرمین کا طرز عمل ایوان کے وقار کے خلاف رہا ہے اور اس سے ایوان بالا کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ چیئرمین خود ایوان کے کام کاج میں رکاوٹ بنتے ہیں اور ایوان کو غیر جانبداری سے چلانے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہیں اور اپوزیشن ارکان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرتے ہیں اور ایوان کو قواعد کے مطابق چلانے کے بجائے سیاست کرتے ہیں۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ نائب صدر ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے اور 1952 کے بعد نائب صدر کو ہٹانے کی کوئی تجویز نہیں لائی گئی ہے ۔ اس عہدے پر فائز شخص ہمیشہ غیرجانبدار اور سیاست سے بالاتر ہوتا ہے ۔ اس عہدے کے وقار کا ذکر کرتے ہوئے سرو پلی رادھا کرشنن نے کہا کہ وہ چیئرمین ہیں اور ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہے ، ایوان کو ہمیشہ اصولوں کے مطابق چلایا جانا چاہیے ۔ قبل ازیں راجیہ سبھا میں چہارشنبہ کو کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور امریکی سرمایہ کار جارج سوروس کے درمیان تعلقات کو لے کر زبردست ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔اس سے پہلے بھی اسی معاملے پر ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ پہلے التوا کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان میں وقفہ سوال شروع کرنے کی کارروائی شروع کی تو حکمراں اور اپوزیشن کے ارکان تیز آواز میں بولنے لگے ۔
قائد ایوان جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے ممبران گاندھی اور سوروس کے تعلقات کو لے کر مشتعل ہیں۔