چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ

   

گیانیش کمار پر برسر اقتدار پارٹی کے نمائندہ کے طور پر کام کرنے کا الزام
حیدرآباد۔10۔مارچ(سیاست نیوز) اسپیکر لوک سبھا کے خلاف جاری تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے چیف الیکشن کمیشن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی پیشکشی کا منصوبہ تیار کرنا شروع کردیاہے۔ الیکشن کمشنر آف انڈیا کی مغربی بنگال میں سرگرمیوں اور ترنمول کانگریس کے خلاف کاروائیوں کے الزامات کے دوران کہا جا رہاہے کہ ممتا بنرجی چیف منسٹر بنگال نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ گذشتہ یوم اسپیکر لوک سبھا اوم پرکاش برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران ’’انڈیا اتحاد‘‘ میں شامل سیاسی جماعتوں اور ترنمول کانگریس نے مرکزی حکومت پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سیاسی استعمال اور چیف الیکشن کمشنرپر برسراقتدار جماعت کے نمائندہ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی پیشکشی کا جائزہ لیا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد اس حکمت عملی پر غور کرنے کے لئے سرکردہ سیاسی قائدین کو یہ ذمہ داری تفویض کی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ مغربی بنگال میں S.I.R کے نام پر لاکھوں رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کئے جانے کے خلاف چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی مسلسل احتجاج کررہی ہیں اور الیکشن کمیشن کی اس کاروائی کے خلاف دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترنمول کانگریس قائدین نے جو اپوزیشن پارٹیوں کے ’انڈیا اتحاد‘ اجلاس میں شرکت کی تھی نے بتایا کہ صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی مسٹر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی کے عہدہ کے وقار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مجروح کرنے کی کوشش کئے جانے کی بھی مذمت کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد نوٹس کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے علاوہ ’انڈیااتحاد‘ میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی تائید کے لئے آمادگی ظاہر کردی ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد نوٹس کی تیاری کے سلسلہ میں کہا جارہا ہے کہ تمام اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ماہرین کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ نوٹس کا مسودہ تیار کرتے ہوئے 100 اراکین لوک سبھا اور 50اراکین راجیہ سبھا کی دستخط حاصل کرنے کے عمل کو مکمل کریں گے۔3