چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کی تحریک پارلیمنٹ میں پیش

,

   

نئی دہلی ۔ 13 مارچ (ایجنسیز) ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے کے مطالبہ کے ساتھ پارلیمنٹ میں مواخذے کی قرارداد پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں تقریباً 190 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخطوں پر مشتمل نوٹس آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں جمع کرایا گیا۔انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نوٹس میں سات اہم الزامات عائد کئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ حکمران بی جے پی کے حق میں کام کرتے ہوئے آئینی عہدے پر رہتے ہوئے جانبدارانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال جیسے ریاستوں میں ’’اسپیشل انٹینسو ریویژن‘‘ (SIR) کے نام پر اصل ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کئے گئے، جس سے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے۔ دستورکے آرٹیکل 324(5) کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو اسی طریقہ کار کے تحت عہدہ سے ہٹایا جا سکتا ہے جس طرح سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس کیلئے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔ اب تک لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان اس نوٹس پر دستخط کر چکے ہیں۔اگر اسپیکر اس نوٹس کو قبول کر لیتے ہیں تو تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی الزامات کا جائزہ لے گی۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور ہونے پر چیف الیکشن کمشنر کو عہدہ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حکمران بی جے پی نے اپوزیشن کی اس مواخذے کی قرارداد پر سخت اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن آئینی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود محض سیاسی فائدے کے لئے ایسا قدم اٹھایا گیا ہے۔