چیف الیکٹورل آفیسر کیلئے سکریٹریٹ میں آفس کی جگہ نہیں: نرنجن

   

رجت کمار گھر سے کام کریں گے، ضمنی چنائو تک برقراری کی درخواست مسترد
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر جی نرنجن نے حضورنگر کے ضمنی انتخاب کے باوجود سکریٹریٹ سے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی منتقلی پر سخت احتجاج کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرنجن نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار نے حکومت سے خواہش کی تھی کہ ضمنی چنائو کی تکمیل تک انہیں سکریٹریٹ میں دفتر برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن حکومت نے اجازت سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں رجت کمار اپنے قیام گاہ سے فرائض انجام دینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے پرامن انتخاب کی ذمہ داری چیف الیکٹورل آفیسر پر عائد ہوتی ہے۔ سکریٹریٹ میں چیف الیکٹورل آفیسر کا دفتر موجود تھا جہاں مواصلاتی نظام اور کمپیوٹر کے ساتھ عہدیدار انتخابات کی نگرانی کررہے تھے۔ چیف سکریٹری نے 29 ستمبر تک سکریٹریٹ کے تمام دفاتر کے تخلیہ کی ہدایت دی تھی جس پر رجت کمار نے انہیں مکتوب روانہ کیا۔ چیف سکریٹری سے خواہش کی گئی کہ ضمنی چنائو کی تکمیل تک سکریٹریٹ سے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے۔ نئے مقام پر کمیونکیشن سسٹم کی بحالی اور کمپیوٹرس کی تنصیب میں وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ حضورنگر میں پرچہ نامزدگی کے ادخال کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے۔ لہٰذا سکریٹریٹ میں دفتر برقرار رکھا جائے لیکن حکومت نے اجازت نہیں دی۔ نرنجن نے بتایا کہ کانگریس قائدین کا ایک وفد آج چیف الیکٹورل آفیسر سے ملاقات کے لیے سکریٹریٹ پہنچا لیکن انہیں داخلہ کی اجازت نہیں دی۔ اسٹار کیمپینرس کی تفصیلات اور اے فارمس داخل کرنے کی آج آخری تاریخ تھی۔ اسی طرح عہدیداروں کو مناکر کانگریس قائدین جب رجت کمار کے دفتر پہنچے تو وہاں فرنیچر اور کمپیوٹرس بکھرے پڑے تھے۔ رجت کمار نے بتایا کہ وہ گھر سے کام کریں گے۔ نرنجن نے کہا کہ چیف منسٹر کو چیف الیکٹورل آفس منتقلی میں ایسی کیا جلدی تھی۔ جن دیگر محکمہ جات کے دفاتر منتقل کئے گئے وہاں آج تک بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکٹورل آفیسر نے کسی بھی نمائندگی کو براہِ راست روانہ کرنے کی خواہش کی کیوں کہ دفتر میں فیکس کی سہولت موجود نہیں ہے۔ نرنجن نے کہا کہ کے سی آر ایک ڈکٹیٹر کی طرح کام کررہے ہیں اور انہیں انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ منعقد کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نرنجن نے کہا کہ جب چیف الیکٹورل آفیسر کو سکریٹریٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں تو پھر دیگر محکمہ جات کا کیا ہوگا۔ حضور نگر کے عوام کو ایسے ڈکٹیٹر چیف منسٹر کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کانگریس کو کامیاب بنانا چاہئے۔